LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور مالیاتی انتظام: سارہ فرائر کا ماڈل اور کاروباری حکمت عملی

News Image
اوپن اے آئی کی چیف فنانشل آفیسر سارہ فرائر نے ایک ایسا مالیاتی ڈھانچہ تشکیل دیا ہے جو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت پر مبنی ہے۔ اگرچہ ہر کمپنی کے پاس اتنے وسائل نہیں، لیکن درمیانے درجے کے ادارے چھوٹے پیمانے پر اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
اوپن اے آئی (OpenAI) کی چیف فنانشل آفیسر (CFO) سارہ فرائر نے حال ہی میں ایک ایسا مالیاتی نظام تشکیل دیا ہے جو مکمل طور پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس یا اے آئی پر مبنی ہے۔ سارہ فرائر کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو مالیاتی ورک فلو میں شامل کرنے سے نہ صرف کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ پیچیدہ مالیاتی معاملات کو زیادہ درستگی کے ساتھ سنبھالا جا سکتا ہے۔ ان کا یہ ماڈل دنیا بھر کی بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کے لیے ایک مثال بن چکا ہے جہاں ٹیکنالوجی کو بنیادی ضرورت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ دنیا کے تمام کاروباری ادارے، خاص طور پر درمیانے درجے کے ادارے، اوپن اے آئی جیسا وسیع مالیاتی ڈھانچہ بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ان کمپنیوں کے پاس نہ تو اوپن اے آئی جیسے انجینئرنگ وسائل دستیاب ہیں اور نہ ہی ان کے پاس جدید ترین ماڈلز تک وہ رسائی حاصل ہے جو سارہ فرائر کو میسر ہے۔ زیادہ تر درمیانے درجے کے مالیاتی افسران اب بھی روایتی ای آر پی (ERP) سسٹمز، منصوبہ بندی کے سافٹ ویئر، اور ایکسل (Excel) پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کے لیے سب کچھ شروع سے تعمیر کرنا یا مالیاتی ورک فلو کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے جس کے لیے بھاری سرمایہ کاری اور تکنیکی مہارت درکار ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ درمیانے درجے کے سی ایف اوز (CFOs) کے لیے سارہ فرائر کا ماڈل ایک مشعل راہ تو ہے، لیکن اسے اپنانے کا طریقہ کار مختلف ہونا چاہیے۔ ان کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ بڑے پیمانے پر تبدیلی کے بجائے چھوٹے قدم اٹھائیں۔ مثلاً، وہ اپنے موجودہ مالیاتی سسٹمز کے ساتھ اے آئی ٹولز کو انضمام (Integrate) کر سکتے ہیں تاکہ ڈیٹا انٹری، آٹومیشن اور رپورٹنگ کے عمل کو آسان بنایا جا سکے۔ چھوٹے پیمانے پر شروع کی جانے والی یہ تبدیلیاں طویل مدت میں بڑی کارکردگی کا باعث بن سکتی ہیں۔ آخر میں، یہ کہنا ضروری ہے کہ اے آئی کا استعمال اب ایک لگژری نہیں بلکہ وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ اگرچہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے اوپن اے آئی کی طرح 'اے آئی نیٹِو' نہیں بن سکتے، لیکن وہ اپنی موجودہ صلاحیتوں میں اے آئی کو شامل کر کے مسابقتی میدان میں اپنی جگہ برقرار رکھ سکتے ہیں۔ سارہ فرائر کا ماڈل دراصل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ٹیکنالوجی کو اپنے کاروبار کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ کیسے بنایا جائے، چاہے شروعات کتنی ہی محدود کیوں نہ ہو۔