Technology
اسمارٹ شاپنگ کارٹس اور خریداری کا رجحان: نئی تحقیق کے اہم انکشافات
ایک حالیہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ سپر مارکیٹوں میں استعمال ہونے والی جدید مصنوعی ذہانت سے لیس شاپنگ کارٹس صارفین کو غیر ضروری خریداری کی طرف مائل کر سکتی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی خریداروں کی عادات کو ٹریک کرکے ان پر نفسیاتی اثر ڈالتی ہے جس سے اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
مستقبل قریب میں جب آپ گروسری کی خریداری کے لیے سپر مارکیٹ جائیں گے تو وہاں کی جدید اسمارٹ شاپنگ کارٹس آپ سے باتیں کرتی ہوئی دکھائی دیں گی۔ یہ کارٹس نہ صرف آپ کو مختلف تراکیب کے لیے مشورے دیں گی بلکہ اسٹور میں موجود مصنوعات تک پہنچنے کے لیے راستے کی رہنمائی بھی کریں گی۔ تاہم، ایک حالیہ تحقیق نے اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایک اہم انتباہ جاری کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جدید سہولیات دراصل صارفین کو معمول سے زیادہ خریداری کرنے اور غیر ضروری اشیاء پر رقم خرچ کرنے پر مائل کر سکتی ہیں۔ تحقیقی مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مصنوعی ذہانت سے لیس یہ کارٹس خریداروں کی خریداری کی عادات کا گہرائی سے تجزیہ کرتی ہیں۔ جب کوئی گاہک اپنی پسندیدہ اشیاء تلاش کرتا ہے یا ان کے قریب پہنچتا ہے تو اے آئی نظام فوری طور پر متعلقہ مصنوعات یا پرکشش پیشکشوں کا اشتہار دکھانا شروع کر دیتا ہے، جس سے خریدار کی نفسیات متاثر ہوتی ہے اور وہ اپنی طے شدہ فہرست سے ہٹ کر خریداری کر بیٹھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اسمارٹ کارٹس کا یہ طریقہ کار گاہکوں کو 'امپلس بائنگ' یا جذباتی خریداری کی جانب دھکیلتا ہے۔ اس تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جس طرح آن لائن شاپنگ ویب سائٹس پر الگورتھم صارفین کو چیزیں خریدنے پر اکساتے ہیں، اب وہی تجربہ فزیکل اسٹورز میں بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔ ان کارٹس میں نصب سینسرز اور کیمرے ہر اس پل کو ریکارڈ کرتے ہیں جو صارف اسٹور میں گزارتا ہے۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی صارفین کی سہولت کے لیے پیش کی جا رہی ہے، لیکن اس کے مالیاتی نقصانات بھی واضح ہیں۔ ماہرینِ معاشیات نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اسمارٹ ٹیکنالوجی کے زیر اثر آنے کے بجائے اپنی خریداری کی فہرست پر قائم رہیں، کیونکہ یہ اے آئی نظام خاص طور پر کمپنی کے منافع کو بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، نہ کہ صارف کے بجٹ کو بچانے کے لیے۔