World
یو ایس ایس ابراہم لنکن: اہلکاروں کے حالات اور ٹرمپ کا موقف
امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات اہلکاروں کی مشکلات کی خبریں زیر بحث ہیں جس پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اس معاملے پر ملٹری خاندانوں اور حکام کے درمیان کشیدگی بھی دیکھی جا رہی ہے۔
امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی ریکارڈ طویل تعیناتی کے دوران جہاز پر موجود عملے کو درپیش مسائل نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس معاملے پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تشویش کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک معمول کی کارروائی قرار دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، جہاز پر تعینات اہلکاروں کی صحت اور کام کے حالات کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، جس کے بعد امریکی بحریہ کے حکام اور متاثرہ خاندانوں کے درمیان تلخ نشستیں بھی ہوئیں۔ تاہم، ٹرمپ انتظامیہ سے وابستہ حلقوں نے ان خبروں کو مبالغہ آرائی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ایک اہم پیش رفت میں، امریکی حکام نے اعلان کیا ہے کہ ایک اور طیارہ بردار جہاز کو یو ایس ایس ابراہم لنکن کی مدد اور اسے ریلیف دینے کے لیے روانہ کیا جا رہا ہے تاکہ طویل عرصے سے سمندر میں موجود اہلکاروں کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیانات میں ایران کے خلاف جنگی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی حکمت عملی پر کسی قسم کی معذرت نہیں کریں گے، چاہے اس کے نتیجے میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہی کیوں نہ ہو۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ جارحانہ موقف ان کی انتخابی مہم اور خارجہ پالیسی کا حصہ ہے، جس میں وہ ملٹری کی صلاحیتوں کو کسی بھی قیمت پر برقرار رکھنے کے حامی ہیں۔ ادھر ملٹری خاندانوں نے ایک ملاقات کے دوران قائم مقام سیکریٹری بحریہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور جہاز پر موجود ناموافق حالات پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا۔ ان خاندانوں کا مطالبہ ہے کہ طویل تعیناتی کے اثرات سے اہلکاروں کو محفوظ رکھا جائے۔ دوسری جانب، پیٹ ہیگسیت جیسے دفاعی تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ میڈیا میں آنے والی رپورٹس غلط ہیں اور جہاز پر موجود حالات کو سیاسی مقاصد کے لیے توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ معاملہ اب ایک سنگین سیاسی اور فوجی تنازعہ بن چکا ہے جس پر نگاہیں مرکوز ہیں۔