Business
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں کا تازہ ترین رجحان اور فیڈ کی پالیسی
امریکہ میں جاری ہونے والے نرم پی پی آئی ڈیٹا کے بعد عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے خدشات کم ہو گئے ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکہ میں جاری ہونے والے پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI) کے کمزور اعداد و شمار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار نے امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں سونے کے خریداروں نے دوبارہ مارکیٹ میں دلچسپی لینا شروع کر دی ہے۔ فی الحال XAU/USD کی قیمت 4350 ڈالر کی سطح پر برقرار ہے، جو کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
دوسری جانب، ڈالر کی قدر میں گراوٹ نے بھی سونے کی قیمتوں کو اوپر جانے میں مدد فراہم کی ہے۔ افراط زر کے حالیہ اعداد و شمار نے مارکیٹ کو یہ پیغام دیا ہے کہ فیڈرل ریزرو اب اپنی سخت مانیٹری پالیسی کو برقرار رکھنے کے بجائے شرح سود کو مستحکم رکھنے پر توجہ دے سکتا ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث سونے کی ریلی کو کچھ خطرات کا سامنا ہے، تاہم فی الحال سرمایہ کاروں کا جھکاؤ محفوظ اثاثوں یعنی سونے کی طرف زیادہ دکھائی دیتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں کا انحصار مکمل طور پر امریکی معیشت کے آئندہ کے اشاریوں اور فیڈرل ریزرو کے بیانات پر ہوگا۔ اگرچہ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ سونے کی ہفتہ وار کارکردگی میں کچھ دباؤ دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ سرمایہ کار افراط زر سے جڑی اپنی سرمایہ کاری کو ایڈجسٹ کر رہے ہیں، لیکن مجموعی طور پر مارکیٹ کا رجحان مثبت نظر آتا ہے۔ سرمایہ کار اب محتاط انداز میں عالمی حالات کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ سونے کی قیمتوں کے مستقبل کے تعین میں درست فیصلہ کیا جا سکے۔