LIVE
Loading Breaking News...

افغانستان میں طالبان کا پانچ سالہ دور اور مغربی ممالک کا اثر و رسوخ

News Image
طالبان کی جانب سے اقتدار سنبھالے ہوئے پانچ سال گزر چکے ہیں جس کے بعد عالمی سطح پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا مغرب اب بھی افغانستان میں کوئی مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ کیا مغربی طاقتوں کے پاس طالبان حکومت پر اثر انداز ہونے کے لیے کوئی سفارتی یا معاشی ہتھیار موجود ہیں۔
افغانستان میں طالبان کے اقتدار کو پانچ سال مکمل ہو چکے ہیں اور اس اہم سنگِ میل پر دنیا بھر کے تجزیہ کار اور پالیسی ساز اس سوال پر غور کر رہے ہیں کہ کیا مغرب کے پاس اب بھی افغانستان کے حوالے سے کوئی سفارتی یا سیاسی اثاثہ باقی ہے۔ اگست 2021 میں جب کابل کا کنٹرول طالبان کے ہاتھ میں آیا تو مغربی طاقتوں کو ایک بڑی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد ان کے اثر و رسوخ میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ اب پانچ سال بعد یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ کیا مغربی ممالک کے پاس طالبان قیادت کو اپنی شرائط پر لانے یا ملک میں بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کے لیے کوئی ٹھوس دباؤ ڈالنے کی گنجائش موجود ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ماضی میں مغربی ممالک کے پاس امداد کی بندش اور اقتصادی پابندیوں کے ذریعے اثر انداز ہونے کا ایک اہم ذریعہ تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ہتھیار بھی اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ طالبان حکومت نے بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اپنی پالیسیوں میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغرب کے پاس موجود 'بارگیننگ چپس' یا سودے بازی کے ذرائع اب نہ ہونے کے برابر ہیں۔ خطے میں دیگر ممالک، جیسے چین اور روس کی بڑھتی ہوئی دلچسپی نے بھی مغرب کے لیے افغانستان میں اپنا اثر برقرار رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور کچھ عالمی ادارے اب بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مغرب کو افغانستان کے عوام کی مدد کے لیے ایک متبادل راستہ تلاش کرنا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سفارتی محاذ پر مغرب اب بھی تنہائی کا شکار ہے کیونکہ طالبان حکومت کو کسی بھی بڑی عالمی طاقت نے باضابطہ تسلیم نہیں کیا ہے۔ تاہم، کیا یہ تنہائی مغرب کے لیے ایک حکمت عملی ہے یا محض ایک مجبوری، یہ سوال بدستور جواب طلب ہے۔ مستقبل قریب میں مغرب کا کردار افغانستان میں محض انسانی امداد کی ترسیل تک محدود دکھائی دیتا ہے، جب تک کہ کوئی بڑی سیاسی تبدیلی رونما نہ ہو۔