LIVE
Loading Breaking News...

لبنان اسرائیل تنازعہ: نجیب میقاتی کا اسرائیلی انخلاء پر زور

News Image
لبنانی وزیراعظم نجیب میقاتی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لبنان سے اپنی فوج کے انخلاء کے لیے ایک واضح ٹائم ٹیبل دے۔ دوسری جانب حزب اللہ نے بیروت کی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے اسے لبنانی فوج کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
لبنان کے وزیراعظم نجیب میقاتی نے موجودہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لبنان سے اپنی افواج کے انخلاء کے لیے ایک واضح اور غیر مبہم ٹائم ٹیبل پیش کرے۔ وزیراعظم کا یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سفارتی کوششیں جاری ہیں اور اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے امکانات پر بحث کی جا رہی ہے۔ میقاتی نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان کی خودمختاری کا تحفظ ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اسرائیلی افواج کی موجودگی خطے کے امن اور استحکام کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دوسری جانب حزب اللہ نے بیروت کے حکام کے اس طرز عمل پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ حزب اللہ کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں الزام لگایا گیا ہے کہ لبنانی حکومت کی حالیہ پالیسیاں اور مذاکرات کا طریقہ کار نہ صرف لبنانی فوج کو خطرات سے دوچار کر رہا ہے بلکہ انہیں اسرائیلی دباؤ کے سامنے کمزور بنا رہا ہے۔ تنظیم کا ماننا ہے کہ کسی بھی قسم کا سمجھوتہ لبنانی فوج کو ایسے فرائض سونپنے پر مجبور کر سکتا ہے جو قومی مفاد کے منافی ہوں اور اسرائیل کو سکیورٹی کے نام پر مزید مداخلت کا موقع فراہم کریں۔ اس صورتحال نے لبنان کے اندر ایک نیا سیاسی بحران پیدا کر دیا ہے۔ ایک طرف حکومت بین الاقوامی دباؤ اور جنگ بندی کے حصول کے لیے کوششیں کر رہی ہے تو دوسری طرف مزاحمتی تنظیم حزب اللہ اپنی عسکری پوزیشن کو برقرار رکھنے اور حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے لیے پرعزم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے حوالے سے بیروت کے حکام اور حزب اللہ کے درمیان پایا جانے والا خلیج لبنان کے مستقبل کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی کارروائیوں میں شدت آئی ہے جس کے باعث لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر جنگ بندی نہ ہوئی تو لبنان کو ایک سنگین انسانی المیے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی طاقتیں، خاص طور پر امریکہ اور فرانس، فریقین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، تاہم زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سیاسی تعطل اور باہمی عدم اعتماد کے باعث فوری حل کے امکانات معدوم ہیں۔