LIVE
Loading Breaking News...

یمن میں حوثی حملہ: الموخا بندرگاہ پر میزائل گرنے سے ہلاکتیں

News Image
یمن کی سرکاری زیر قبضہ بندرگاہ الموخا پر حوثی باغیوں کی جانب سے کیے گئے میزائل حملے میں چار افراد جان کی بازی ہار گئے۔ اس حملے کے بعد فریقین کے مابین قائم جنگ بندی کے معاہدے کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
یمن کی سرکاری کنٹرول والی بندرگاہ الموخا ایک بار پھر خونریزی کا مرکز بن گئی ہے، جہاں حوثی باغیوں کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں نے شدید تباہی مچائی ہے۔ مقامی حکام اور عینی شاہدین کے مطابق، حوثیوں کی جانب سے ایک ساتھ چھ بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے جن کا ہدف الموخا بندرگاہ کی تنصیبات تھیں۔ اس حملے کے نتیجے میں کم از کم چار افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں قریبی طبی مراکز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ بندرگاہ پر ہونے والے اس حملے نے خطے میں جاری سکیورٹی کی صورتحال کو ایک بار پھر مخدوش کر دیا ہے۔ اس حملے کو یمن کی حکومت اور حوثی باغیوں کے مابین عرصے سے قائم نازک جنگ بندی کے معاہدے کی ایک بڑی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی جانب سے یمن میں امن کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں پر اس واقعے کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کی جارحیت سے ملک میں جاری سیاسی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے اور پہلے سے تباہ حال یمنی معیشت اور انفراسٹرکچر کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ الموخا بندرگاہ انسانی امداد اور تجارتی سامان کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے، جس پر حملہ براہ راست عام شہریوں کی زندگیوں کو متاثر کرتا ہے۔ حکومتِ یمن نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کا نام دیا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کا سخت نوٹس لیا جائے۔ دوسری جانب، حوثیوں کی جانب سے اب تک اس حملے کے حوالے سے کوئی باقاعدہ وضاحت جاری نہیں کی گئی۔ اس واقعے کے بعد یمنی ساحلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ مزید کسی بھی ممکنہ حملے کو روکا جا سکے۔ یمن میں قیامِ امن کے خواہاں ممالک نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کریں۔