LIVE
Loading Breaking News...

یمن کے شہر المخا پر حوثی حملہ: چار شہری ہلاک اور متعدد زخمی

News Image
یمن کی سرکاری افواج نے تصدیق کی ہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے المخا شہر پر کیے گئے حملے میں کم از کم چار افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ یہ واقعہ ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں اور یمن کی تسلیم شدہ حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نتیجہ ہے۔
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے المخا شہر کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ مقامی حکام اور طبی ذرائع کے مطابق یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں ایک بار پھر عسکری سرگرمیاں اور کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ اس حملے میں کئی دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔ اس واقعے کے بعد یمنی حکومت نے حوثی ملیشیا کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی عام شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ المخا کا ساحلی شہر اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے اور یہاں ہونے والے اس حملے کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ حکومتی ترجمان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حوثیوں کی جانب سے کی جانے والی اس طرح کی اشتعال انگیزیوں کا نوٹس لے اور خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ دوسری جانب، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یمن میں حوثی باغیوں اور سرکاری افواج کے درمیان حالیہ دنوں میں دشمنی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایران کی حمایت یافتہ حوثی تنظیم کی جانب سے کی جانے والی یہ کارروائیاں امن مذاکرات کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں۔ اگرچہ بین الاقوامی طاقتیں خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوشاں ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں جہاں تشدد کے واقعات میں تواتر سے اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں یمن کی جنگ کے باعث دنیا کا بدترین انسانی بحران پیدا ہوا ہے، اور اس طرح کے حملے عام شہریوں کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن رہے ہیں۔ المخا میں ہونے والی ہلاکتوں کے بعد علاقے میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے اور سرکاری افواج نے جوابی کارروائیوں کے لیے اپنی پوزیشنز مستحکم کر لی ہیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے فریقین سے جنگ بندی اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔