Technology
اے سی ایل یو کا فلک سیفٹی کے نگرانی کے نظام پر کڑا تنقید
امریکی سول لبرٹیز یونین نے فلک سیفٹی کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے پرائیویسی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے محض ایک تشہیر قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات کمپنی کے وسیع تر نگرانی کے نظام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے میں ناکام ہیں۔
امریکی سول لبرٹیز یونین (اے سی ایل یو) نے جمعرات کے روز نگرانی کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنی 'فلک سیفٹی' کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے پرائیویسی حفاظتی اقدامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اے سی ایل یو کا موقف ہے کہ یہ تبدیلیاں کمپنی کے وسیع تر خودکار لائسنس پلیٹ ریڈر (ALPR) نیٹ ورک کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کو دور کرنے کے لیے ناکافی ہیں اور یہ محض ایک نمائشی پی آر (عوامی تعلقات) کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ اے سی ایل یو کا ماننا ہے کہ یہ اقدامات عوامی تحفظ کے نام پر شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت کے بنیادی مسئلے کو حل نہیں کرتے۔
فلک سیفٹی، جس کا نیٹ ورک پورے امریکہ میں ہزاروں کیمروں پر محیط ہے، مسلسل تنقید کی زد میں ہے کیونکہ اس کا ڈیٹا بیس پولیس اور نجی سیکورٹی اداروں کے لیے ایک طاقتور ٹول بن چکا ہے۔ نقادوں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی شخص کی نقل و حرکت کو آسانی سے ٹریک کیا جا سکتا ہے، جس سے نہ صرف انفرادی پرائیویسی متاثر ہوتی ہے بلکہ نسلی امتیاز اور بلا جواز پولیس کارروائیوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اے سی ایل یو نے واضح کیا کہ کمپنی کی جانب سے پیش کردہ 'گارڈ ریلز' حقیقت میں اس نگرانی کے نظام کی جڑ کو ختم نہیں کر سکتے۔
اے سی ایل یو کے ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جب تک اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر سخت قانونی پابندیاں اور شفافیت کے معیارات لاگو نہیں کیے جاتے، تب تک ایسے اقدامات صرف لوگوں کو مطمئن کرنے کا ایک حربہ ہیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ لائسنس پلیٹ ریڈر ڈیٹا کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ایک جامع قانون سازی کی ضرورت ہے، تاکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ فلک سیفٹی کی جانب سے جاری کردہ ان اقدامات کو تکنیکی حلقوں میں بھی شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے، جہاں ماہرین کا کہنا ہے کہ نگرانی کرنے والی ٹیکنالوجی کے اخلاقی استعمال کے بغیر یہ اقدامات بے معنی ہیں۔
مستقبل میں یہ تنازعہ مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے کیونکہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنی مصنوعات کے پھیلاؤ کے لیے پرعزم ہیں جبکہ انسانی حقوق کے علمبردار اس بڑھتی ہوئی نگرانی کے نیٹ ورک کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ اے سی ایل یو کی جانب سے اس معاملے پر سخت موقف اپنانے کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا فلک سیفٹی اپنے کاروباری ماڈل میں کوئی بنیادی تبدیلی لاتی ہے یا پھر اسے صرف تنقید کا سامنا ہی کرنا پڑے گا۔