LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی اور بائیولوجیکل وائرس: ایک سنگین عالمی خطرہ

News Image
نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا غلط استعمال کرتے ہوئے ڈیپ فیک حیاتیاتی وائرس تیار کیے جا سکتے ہیں جو انسانی مدافعتی نظام کو چکما دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ انسانیت اس طرح کے ممکنہ جیو بائیولوجیکل خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ہونے والی تیز رفتار پیش رفت نے جہاں انسانی زندگی کو آسان بنایا ہے وہیں اس کے کچھ سنگین منفی پہلو بھی ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس اور سائنسدانوں کے خدشات کے مطابق اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے ایسے 'ڈیپ فیک' حیاتیاتی وائرس تیار کیے جا سکتے ہیں جو انسانی مدافعتی نظام کو بآسانی چکما دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ پیش رفت حیاتیاتی تحفظ (biosecurity) کے ماہرین کے لیے الارمنگ ہے کیونکہ اس طرح کے وائرس لیبارٹری میں بہت کم وقت اور وسائل کے ساتھ تیار کیے جا سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ AI الگورتھم اب پروٹین کی ساخت کو تبدیل کرنے اور ایسے جینیاتی کوڈ ڈیزائن کرنے کے قابل ہو چکے ہیں جو روایتی وائرسز کی طرح نہیں بلکہ زیادہ جدید اور مہلک شکل میں سامنے آ سکتے ہیں۔ اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر میں اس طرح کے ہائی ٹیک جیو بائیولوجیکل خطرات سے نمٹنے کے لیے ابھی تک کوئی مربوط دفاعی حکمت عملی موجود نہیں ہے۔ ریڈیکل نامی تنظیم کے سی ای او ایرک نیوین کے مطابق ہم اس وقت ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں ٹیکنالوجی کا غلط استعمال پوری دنیا کے لیے وبا کی صورت میں تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ اگرچہ AI کو ویکسین کی تیاری اور بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم اس کی دہری نوعیت اسے ایک خطرناک ہتھیار بھی بناتی ہے۔ حکومتی سطح پر ان ٹیکنالوجیز کو ریگولیٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ان کے مضر اثرات کو روکا جا سکے۔ ماہرین حیاتیات اور سائبر سکیورٹی کے ماہرین اب ایک مشترکہ لائحہ عمل پر زور دے رہے ہیں جس کے تحت اے آئی کے استعمال پر سخت نگرانی رکھی جائے گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا کے صحت عامہ کے ادارے اس قدر تیزی سے پھیلنے والی نئی حیاتیاتی لہر کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ جواب فی الحال 'نہیں' میں ہے، کیونکہ ہمارے پاس ابھی تک ایسے سینسرز یا ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے جو ڈیپ فیک وائرسز کی شناخت فوری طور پر کر سکے۔ آنے والے وقتوں میں ٹیکنالوجی کے اخلاقی استعمال کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین میں بھی تبدیلی ناگزیر ہے تاکہ مستقبل کی نسلوں کو اس مصنوعی حیاتیاتی خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔