LIVE
Loading Breaking News...

دو سالہ بچی کے قتل کا مقدمہ: ماں اور بوائے فرینڈ مجرم قرار

News Image
برطانیہ میں دو سالہ بچی ایزাবেل ویلش کے قتل کے مقدمے میں عدالت نے ماں اور اس کے دوست کو مجرم قرار دے دیا ہے۔ استغاثہ کے مطابق معصوم بچی کو موت سے پہلے گھناؤنے اور ظالمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
برطانیہ کی ایک عدالت میں انتہائی لرزہ خیز مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے دو سالہ بچی ایزাবেل ویلش کے قتل کے الزام میں اس کی ماں اور اس کے بوائے فرینڈ کو مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور عدالت میں کارروائی کے دوران سنے جانے والے انکشافات نے ہر شخص کی آنکھ نم کر دی۔ پراسیکیوشن کے مطابق اس معصوم بچی کو اس کی زندگی کے آخری ایام میں انتہائی مظلومانہ اور ظالمانہ حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ دو سالہ ایزাবেل کو ایک سوچی سمجھی اور شاطرانہ مہم کے تحت مسلسل جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جسے استغاثہ نے ایک انتہائی گھناؤنا اور شیطانی فعل قرار دیا۔ بچی کے جسم پر تشدد کے متعدد نشانات اس بات کا منہ بولتا ثبوت تھے کہ اسے کس بے دردی سے نشانہ بنایا جا رہا تھا، اور اس کے اپنے ہی گھر میں اس کی جان لینے تک اسے اذیت دی گئی۔ تفتیشی حکام اور استغاثہ نے عدالت میں شواہد پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملزمان نے اپنے جرم کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی لیکن فرانزک شواہد اور طبی رپورٹوں نے ان کے تمام جھوٹ کا پردہ فاش کر دیا۔ معصوم بچی کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس فیصلے کو سراہا ہے تاہم اس بات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے کہ ایک دو سالہ پھول جیسی بچی کو اس دنیا میں وہ تحفظ نہ مل سکا جو اس کا حق تھا۔ متوقع طور پر عدالت جلد ہی مجرموں کے لیے انتہائی سخت سزا کا اعلان کرے گی تاکہ معاشرے میں اس قسم کے بہیمانہ جرائم کی روک تھام کی جا سکے اور مظلوم بچی کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔