Technology
گرنے کے واقعات کی درست شناخت کے لیے نئی ٹیکنالوجی
ورجینیا ٹیک کے ماہرین نے ایک جدید کاسکیڈ آرکیٹیکچر تیار کیا ہے جو انتہائی ڈیٹا عدم توازن کی صورتحال میں بھی گرنے کے واقعات کو درستگی سے پہچان سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ہنگامی طبی امداد کے نظام میں انقلاب لا سکتی ہے۔
ورجینیا ٹیک کے شعبہ بائیو میڈیکل انجینئرنگ کے محققین نے ایک انتہائی اہم سائنسی پیش رفت کرتے ہوئے 'گرنے' (Fall Detection) کے واقعات کو پہچاننے کے لیے ایک جدید 'کاسکیڈ آرکیٹیکچر' متعارف کرایا ہے۔ اس تحقیق میں اس چیلنج پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جسے 'ایکسٹریم کلاس امبیلنس' (Extreme Class Imbalance) کہا جاتا ہے۔ اکثر اوقات حقیقی دنیا کے ڈیٹا میں گرنے کے واقعات کی تعداد بہت کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے روایتی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز درست نتائج دینے میں ناکام رہتے ہیں۔ یہ نیا ماڈل خاص طور پر ان پیچیدہ حالات کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ طبی ایمرجنسی کے نظاموں کو زیادہ قابل اعتماد بنایا جا سکے۔
اس تحقیقی پروجیکٹ کے مرکزی محققین ایتھن ہینلی، نکول ای پی اسٹارک اور اسٹیو راؤسن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ روزمرہ کے معمولات میں گرنے کا واقعہ ایک غیر معمولی لمحہ ہوتا ہے، جبکہ باقی سارا وقت معمول کی سرگرمیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس عدم توازن کی وجہ سے، عام ماڈل اکثر غلط الارم (False Positives) پیدا کرتے ہیں، جو کسی بھی ہنگامی نظام کی افادیت کو ختم کر دیتے ہیں۔ نیا کاسکیڈ آرکیٹیکچر ایک کثیر سطحی عمل کے ذریعے کام کرتا ہے جو پہلے مرحلے میں ڈیٹا کو فلٹر کرتا ہے اور دوسرے مرحلے میں انتہائی باریک بینی سے گرنے کے عمل کی تصدیق کرتا ہے، جس سے درستگی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی نہ صرف بزرگ افراد کی دیکھ بھال کے لیے بلکہ ہسپتالوں اور عوامی مقامات پر فوری طبی امداد پہنچانے کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ اس آرکیٹیکچر کو حقیقی دنیا کی تعیناتی (Real-world deployment) کے لیے موزوں بنایا گیا ہے تاکہ اسے پہننے کے قابل آلات (Wearable Devices) اور سمارٹ کیمرہ سسٹمز میں آسانی سے نصب کیا جا سکے۔ یہ تحقیق بائیو میڈیکل انجینئرنگ کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل ہے جو ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
مستقبل قریب میں، اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسے سسٹمز بنائے جا سکیں گے جو بہت کم کمپیوٹیشنل وسائل استعمال کرتے ہوئے بھی فوری طور پر گرنے کے واقعات کی نشاندہی کر سکیں گے۔ اس سے ہنگامی ردعمل کے وقت میں کمی آئے گی اور زخمی ہونے والے افراد کو بروقت طبی امداد فراہم کرنا ممکن ہو سکے گا۔ ورجینیا ٹیک کی یہ کاوش ثابت کرتی ہے کہ ڈیٹا سائنس اور بائیو میڈیکل انجینئرنگ کا ملاپ کس طرح سے صحت عامہ کے شعبے میں جدید حل پیش کر سکتا ہے۔