LIVE
Loading Breaking News...

یورپ کی دفاعی صورتحال اور پولینڈ کا کردار: اینڈریو مچٹا کا تجزیہ

News Image
ہوور انسٹیٹیوٹ کے ماہر اینڈریو مچٹا کے مطابق یورپ کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال میں جرمنی اور فرانس کی دفاعی صلاحیتوں کے باوجود پولینڈ کو ایک کلیدی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ مچٹا نے زور دیا ہے کہ خطے میں بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر پولینڈ کو اپنی دفاعی حکمت عملی میں پہل کرنا ہوگی۔
ہوور انسٹیٹیوٹ کے ممتاز فیلو اور دفاعی امور کے ماہر اینڈریو مچٹا نے یورپ کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ مچٹا کا ماننا ہے کہ جرمنی کے پاس وسیع پیمانے پر فوجی قیادت تعمیر کرنے کی گنجائش موجود ہے، تاہم سیاسی اور تاریخی وجوہات کی بناء پر وہ اس کردار کو اپنانے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ دوسری جانب فرانس جوہری ہتھیاروں سے لیس ہونے کے باوجود اپنی عسکری ترجیحات میں زیادہ تر بیرونی مہمات پر توجہ مرکوز رکھتا ہے۔ برطانوی فوج کی موجودہ حالت کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں اس کی نفری میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کی وجہ سے یورپ کے روایتی دفاعی ڈھانچے کو نئے سرے سے منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ اینڈریو مچٹا کے تجزیے کے مطابق، ایسی صورتحال میں پولینڈ کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ آگے بڑھے اور وسطی و مشرقی یورپ میں سیکیورٹی کا ایک کلیدی ستون بن کر ابھرے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولینڈ کو اب محض ایک اتحادی کے بجائے یورپی دفاعی نظام میں ایک مرکزی فیصلہ ساز کے طور پر سامنے آنا چاہیے۔ مچٹا نے مزید کہا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ قریبی شراکت داری برقرار رکھنے کے باوجود، یورپی ممالک کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ پولینڈ، جو پہلے ہی اپنی عسکری صلاحیتوں میں زبردست سرمایہ کاری کر رہا ہے، کے پاس یہ اہلیت موجود ہے کہ وہ جرمنی اور فرانس کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یورپی ممالک نے اپنی دفاعی پالیسیوں میں بروقت تبدیلیاں نہ کیں، تو روس جیسے خطرات کا مقابلہ کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ آخر میں، اینڈریو مچٹا نے اس بات پر زور دیا کہ یورپ کی سلامتی کا انحصار اب محض واشنگٹن کے فیصلوں پر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ خود یورپی ممالک، خصوصاً پولینڈ جیسے ابھرتے ہوئے طاقتور ممالک کو اپنی قومی سلامتی اور خطے کے دفاع کے لیے خود کار اور فعال حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ پولینڈ کی جانب سے لی گئی یہ پہل نہ صرف یورپی اتحاد کے لیے اہم ثابت ہوگی بلکہ ناٹو (NATO) کی مضبوطی میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔