LIVE
Loading Breaking News...

ٹو ڈی سیمی کنڈکٹرز میں انقلابی فوٹو وولٹک جنکشن کی دریافت

News Image
محققین نے ایک نئی تحقیق کے دوران ٹو ڈی سیمی کنڈکٹر ہوموبائلیر میں ایک نینو میٹر سائز کے فوٹو وولٹک جنکشن کی تخلیق ممکن بنائی ہے۔ یہ پیش رفت روشنی کو بجلی میں تبدیل کرنے کی ٹیکنالوجی کو مزید جدید اور منی ایچر بنانے کی راہ ہموار کرے گی۔
سائنسی تحقیق کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے محققین نے ٹو ڈی (2D) سیمی کنڈکٹر ہوموبائلیر میں انتہائی باریک اور پوائنٹ نما فوٹو وولٹک جنکشن کی کامیابی سے نمائش کی ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی کی بدولت سیمی کنڈکٹر جنکشن کو ایک واحد ڈوپنٹ (dopant) تک محدود کر دیا گیا ہے، جو کہ نینو میٹر پیمانے پر روشنی کو برقی کرنٹ میں تبدیل کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ پیش رفت مستقبل میں انتہائی چھوٹی اور تیز رفتار الیکٹرانک آلات کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس تحقیق کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ نینو میٹر سائز کا جنکشن ایک ایسے سگنل کو پیدا کرتا ہے جسے بعد ازاں بڑے پیمانے کے سیمی کنڈکٹر ہوموبائلیر کے ذریعے باآسانی دریافت کیا جا سکتا ہے۔ عام طور پر فوٹو وولٹک سیلز بڑے رقبے پر محیط ہوتے ہیں، لیکن اس نئی تکنیک نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انتہائی محدود جگہ پر بھی توانائی کی موثر تبدیلی ممکن ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس دریافت سے سولر پینل ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ فوٹو ڈیٹیکٹرز اور آپٹو الیکٹرانک آلات کی کارکردگی میں زبردست اضافہ ہوگا۔ اس ٹیکنالوجی کے اطلاق کے لیے محققین نے ٹو ڈی سیمی کنڈکٹر مواد کی خصوصیات کو مہارت سے استعمال کیا ہے، جس سے الیکٹرانوں کی حرکت اور روشنی کے جذب ہونے کے عمل کو انتہائی باریک بینی سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس کامیاب تجربے کے بعد اب اس بات کی توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں نینو الیکٹرانکس کے میدان میں نئے دروازے کھولے گی، جس سے نہ صرف بجلی کی بچت ممکن ہوگی بلکہ کمپیوٹنگ اور مواصلاتی نظاموں کی رفتار میں بھی کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔ ماہرین کے مطابق، اگرچہ یہ ابھی لیبارٹری کے پیمانے پر کیا گیا ایک تجربہ ہے، لیکن اس کی کامیابی نے سیمی کنڈکٹر کی دنیا میں منی ایچرائزیشن (miniaturization) کی نئی حدود طے کر دی ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایٹمی اور مالیکیولر سطح پر کام کرنے والے برقی آلات اب محض تصور نہیں بلکہ حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں۔ آنے والے وقتوں میں، یہ تکنیک صنعتی پیمانے پر سیمی کنڈکٹرز کے استعمال کو ایک نئی سمت عطا کرے گی۔