Technology
ماحولیاتی تحفظ کیلئے کاربن نائٹرائیڈ کی نئی ٹیکنالوجی متعارف
ینگ ژو یونیورسٹی کے محققین نے کاربن نائٹرائیڈ کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایسی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو پانی میں موجود نقصان دہ کیمیکلز کو ختم کر سکتی ہے۔ یہ عمل نہ صرف آبی آلودگی کو کم کرتا ہے بلکہ سمندری حیات خاص طور پر مرجان (کوریلز) کی صحت کو بحال کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
چین کی ینگ ژو یونیورسٹی کے کالج آف کیمسٹری اینڈ کیمیکل انجینئرنگ کے ماہرین نے ماحولیاتی تحفظ کی سمت میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے کاربن نائٹرائیڈ (Carbon Nitride) پر مبنی ایک جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے۔ یہ نئی تحقیق سنگلیٹ آکسیجن کے ذریعے فوٹوکیٹلیٹک انحطاط کے عمل پر مبنی ہے، جس کا بنیادی مقصد پانی میں موجود مضرِ صحت کیمیکل 'بینزوفینون-3' کو ختم کرنا ہے۔ بینزوفینون-3 عام طور پر سن اسکرین اور دیگر کاسمیٹک مصنوعات میں پایا جاتا ہے جو سمندری پانی میں شامل ہو کر آبی حیات کے لیے سنگین خطرہ بن جاتا ہے۔ محققین کے مطابق، یہ کیمیکل خاص طور پر مرجان (Corals) کی نشوونما کو روکتا ہے اور ان کی قدرتی رنگت و توانائی کو تباہ کر دیتا ہے۔
اس تحقیق میں استعمال ہونے والا کاربن نائٹرائیڈ ایک ایسا مادہ ہے جو روشنی کی مدد سے کیمیکلز کو توڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جب اس پر مخصوص روشنی ڈالی جاتی ہے، تو یہ سنگلیٹ آکسیجن پیدا کرتا ہے، جو پانی میں موجود نامیاتی آلودگیوں کو غیر نقصان دہ اجزاء میں تبدیل کر دیتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار روایتی صفائی کے طریقوں کی نسبت کہیں زیادہ موثر اور ماحول دوست ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے پانی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، جس کے براہِ راست اثرات سمندری ایکو سسٹم کی بحالی پر مرتب ہوں گے۔ تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں آلودہ پانی میں پلنے والے مرجان کی شرح اموات میں نمایاں کمی آئی ہے اور ان کی بحالی کی رفتار میں تیزی دیکھی گئی ہے۔
اس پروجیکٹ پر کام کرنے والی ٹیم میں شین ژو، ژیاؤفی یانگ، دی ہی، ہانگ لیو، ژیاؤیو ژو، تیانئی وانگ اور چنگیین وانگ شامل ہیں۔ محققین کا ماننا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے، تو یہ ساحلی علاقوں میں پانی کی آلودگی کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ بینزوفینون-3 جیسے کیمیکلز جو کہ سمندری ماحول کے لیے زہر قاتل ہیں، انہیں اس طریقے سے مکمل طور پر تلف کیا جا سکتا ہے۔ یہ تحقیق نہ صرف کیمیکل سائنس کے شعبے میں ایک اہم کامیابی ہے بلکہ سمندری حیات کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ایک امید افزا قدم بھی ہے۔ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنا کر اسے بڑے پیمانے پر واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس میں شامل کرنے پر کام جاری رکھا جائے گا۔