LIVE
Loading Breaking News...

پوٹاشیم آئن بیٹریوں کیلئے جدید غیر آتش گیر الیکٹرولائٹ ٹیکنالوجی

News Image
سائنسدانوں نے پوٹاشیم آئن بیٹریوں کو محفوظ بنانے کیلئے ایک نیا غیر آتش گیر الیکٹرولائٹ ڈیزائن کیا ہے۔ اس نئی ایجاد سے بیٹریوں کی کارکردگی اور الیکٹروڈ مطابقت میں نمایاں بہتری آئے گی۔
جدید ٹیکنالوجی کے دور میں توانائی کو ذخیرہ کرنے والے نظاموں خاص طور پر بیٹریوں کی حفاظت ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ حالیہ تحقیق میں سائنسدانوں نے پوٹاشیم آئن بیٹریوں کے لیے ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے جس کے تحت غیر آتش گیر الیکٹرولائٹس (nonflammable electrolytes) تیار کیے گئے ہیں۔ روایتی بیٹریوں میں الیکٹرولائٹس کے جلنے کا خطرہ رہتا ہے، لیکن نئی تحقیق اس خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ پوٹاشیم آئن بیٹریاں لیتھیم آئن بیٹریوں کا ایک سستا اور متبادل آپشن سمجھی جاتی ہیں، تاہم ان کی کارکردگی میں الیکٹروڈ کے ساتھ مطابقت کا مسئلہ ایک بڑی رکاوٹ رہا ہے۔ اس تحقیق میں ماہرین نے ایک منفرد فاسفیٹ مالیکیول ڈیزائن کیا ہے جس میں لمبی سائیڈ چینز شامل ہیں۔ یہ ساختی تبدیلی مضبوط چیلیشن (chelation) اور اینائن سے تقویت یافتہ سالویشن (anion-reinforced solvation) کو ممکن بناتی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں نہ صرف بیٹری کی حفاظت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ الیکٹروڈ کے ساتھ کیمیائی تعاملات بھی بہتر ہوتے ہیں۔ یہ نئی ٹیکنالوجی بیٹری کے اندرونی ڈھانچے کو مستحکم کرتی ہے، جس سے طویل عرصے تک بیٹری کی کارکردگی برقرار رہتی ہے۔ مزید برآں، تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ نیا الیکٹرولائٹ سسٹم ہائی وولٹیج اور ہائی کرنٹ کی صورت میں بھی اپنی خصوصیات کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ پیشرفت بیٹری انڈسٹری میں ایک سنگ میل ثابت ہوگی، خاص طور پر ایسی جگہوں پر جہاں بیٹری کا سائز اور قیمت اہم عوامل ہیں۔ اس ایجاد سے نہ صرف الیکٹرک گاڑیوں بلکہ بڑے پیمانے پر انرجی سٹوریج کے منصوبوں میں بھی پوٹاشیم آئن بیٹریوں کا استعمال ممکن ہو سکے گا۔ ماہرین اب اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر صنعتی پیداوار کیلئے استعمال کرنے کے طریقوں پر غور کر رہے ہیں تاکہ اسے تجارتی منڈیوں تک پہنچایا جا سکے۔