World
افغانستان: طالبان حکومت کے پانچ سال اور خواتین کے حقوق کی صورتحال
طالبان کے اقتدار کو پانچ سال مکمل ہونے پر اقوام متحدہ نے افغانستان میں خواتین کی زندگیوں کو درپیش سنگین چیلنجز پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی ادارے نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان خواتین اور لڑکیوں کی مدد اور بنیادی حقوق کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کرے۔
افغانستان میں طالبان کے اقتدار کو پانچ سال مکمل ہونے کے موقع پر اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں نے ایک تشویشناک رپورٹ جاری کی ہے جس میں افغان خواتین اور لڑکیوں کو درپیش مشکلات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران افغان خواتین کی زندگی ناقابل شناخت حد تک بدل چکی ہے اور انہیں روزمرہ کی زندگی میں سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔ یونیسف کے اعداد و شمار کے مطابق، 2021 سے اب تک 2.6 ملین سے زائد افغان لڑکیوں کو سیکنڈری تعلیم تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہے، جو ملک کے مستقبل کے لیے ایک بڑا تعلیمی اور سماجی بحران ہے۔ اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کے مطابق، یہ صورتحال خواتین کو سماجی دھارے سے مکمل طور پر نکالنے کے مترادف ہے۔
عالمی برادری اور امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر افغان خواتین کی امداد اور انہیں تعلیم و روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ خواتین کی زندگیوں پر عائد پابندیوں کو معمول پر لانے کی کوششیں انتہائی افسوسناک ہیں اور عالمی برادری کو اس معاملے پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ تنظیم نے تمام متعلقہ فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان خواتین کی بنیادی ضروریات کی فراہمی اور انہیں معاشرے میں باوقار مقام دلانے کے لیے ٹھوس حکمت عملی اپنائیں۔
اس سنگین صورتحال کے باوجود، سفارتی سطح پر بحث جاری ہے کہ طالبان حکومت کے ساتھ کس حد تک روابط قائم رکھے جائیں۔ بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ موجودہ حکمرانوں کی پالیسیاں قابل مذمت ہیں، لیکن آبادی کے وسیع تر مفاد اور انسانی بحران کو روکنے کے لیے سفارتی روابط کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، یہ روابط خواتین کے حقوق کی بحالی کے لیے ایک شرط کے طور پر استعمال ہونے چاہئیں۔ اقوام متحدہ کا اصرار ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی امداد کو کسی صورت متاثر نہیں ہونا چاہیے، تاکہ عام افغان شہری، خاص طور پر خواتین اور بچے، قحط اور غربت کی لہر سے محفوظ رہ سکیں۔
مستقبل کے حوالے سے خدشات بدستور موجود ہیں کیونکہ تعلیمی پابندیوں کے باعث ایک پوری نسل علم سے محروم ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں خواتین کی شمولیت کے بغیر پائیدار امن اور ترقی کا تصور ممکن نہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اپنی کوششوں کو مزید تیز کرے تاکہ طالبان حکام کو خواتین کے حقوق کے احترام کے لیے آمادہ کیا جا سکے اور افغان خواتین کو ان کے بنیادی حقوق دوبارہ مل سکیں۔