LIVE
Loading Breaking News...

لاہور میں پولیس حراست میں دو خواتین کی ہلاکت، عدالتی تحقیقات کا مطالبہ

News Image
پاکستان میں پولیس حراست کے دوران دو خواتین کی پراسرار ہلاکتوں پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ لاہور پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی تفتیش جاری ہے اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔
پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے لاہور میں پولیس حراست کے دوران ایک خاتون اور ایک بچی کی پراسرار ہلاکتوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے واقعے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ سمیت دیگر سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حراستی مراکز میں خواتین کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس طرح کے واقعات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور انسانی حقوق کی پاسداری پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے بھی پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جس کے بعد سماجی حلقوں کی جانب سے انصاف کے لیے آواز بلند کی جا رہی ہے۔ اس معاملے پر لاہور پولیس کے اعلیٰ حکام کا موقف ہے کہ واقعے کی گہرائی سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ سی سی پی او لاہور نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حراست کے دوران خواتین کی ہلاکتوں کی وجوہات جاننے کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق اس واقعے میں ملوث کسی بھی پولیس افسر یا اہلکار کو رعایت نہیں دی جائے گی اور اگر طبی غفلت یا تشدد ثابت ہوا تو سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ حراستی اموات کے معاملات میں عدالتی انکوائری انتہائی ضروری ہے تاکہ حقائق قوم کے سامنے لائے جا سکیں اور آئندہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے ایک مثال قائم کی جا سکے۔ ادھر ملک بھر کے میڈیا اور سول سوسائٹی میں اس واقعے پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امینہ اور انمول نامی خواتین کی ہلاکت کے بعد پولیس کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس تھانوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کو یقینی بنایا جائے تاکہ حراست میں موجود افراد کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کیس میں اگرچہ تفتیشی عمل جاری ہے، تاہم عوامی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ شہریوں کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ عدالتی تحقیقات کے بعد اس افسوسناک واقعے کے تمام پہلو واضح ہو جائیں گے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے گا۔