LIVE
Loading Breaking News...

بی بی سی کا ٹرمپ کے اہل خانہ کو قانونی نوٹس بھیجنے کا فیصلہ

News Image
بی بی سی کے وکلاء کا موقف ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اہل خانہ کے پاس 6 جنوری 2021 کو کیپٹل ہل میں دی گئی تقریر کے حوالے سے اہم ذاتی معلومات موجود ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارہ قانونی کارروائی کے دوران ان افراد کو طلب کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کر رہا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اہل خانہ کو قانونی طور پر طلب کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس عدالتی اقدام کا تعلق بی بی سی کے مشہور پروگرام 'پینوراما' سے منسلک ایک مقدمے سے ہے، جس میں 6 جنوری 2021 کو واشنگٹن میں ہونے والے کیپٹل ہل حملے کے پسِ پردہ محرکات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بی بی سی کے قانونی ماہرین کا موقف ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی رشتہ دار اس دن کی صورتحال اور سابق صدر کے ارادوں کے بارے میں اہم ذاتی معلومات رکھتے ہیں، جو مقدمے کے حقائق جاننے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ واضح رہے کہ 6 جنوری 2021 کو ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کیپٹل کی عمارت کے باہر ایک جذباتی اور طویل تقریر کی تھی، جس کے بعد ان کے حامیوں نے عمارت میں داخل ہو کر ہنگامہ آرائی کی تھی۔ بی بی سی کے وکلاء کا کہنا ہے کہ اس تقریر کے دوران اور اس سے قبل کے لمحات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی نیت اور منصوبہ بندی کیا تھی، اس بارے میں ان کے اہل خانہ سے پوچھ گچھ کرنا قانونی طور پر ناگزیر ہے۔ اس عدالتی درخواست کا مقصد ٹرمپ کے اہل خانہ کو گواہی دینے یا دستاویزی ثبوت فراہم کرنے کے لیے مجبور کرنا ہے تاکہ سچائی سامنے آ سکے۔ دوسری جانب سیاسی حلقوں میں اس خبر نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حامی اسے ایک سیاسی انتقامی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق، اگر عدالت بی بی سی کی یہ درخواست قبول کر لیتی ہے تو یہ ٹرمپ خاندان کے لیے ایک بڑی قانونی مشکل بن سکتی ہے۔ مقدمے کی اگلی سماعت میں یہ فیصلہ ہوگا کہ آیا بی بی سی کے پاس اتنی ٹھوس وجوہات موجود ہیں کہ وہ ٹرمپ کے خاندان کے افراد کو زبردستی طلب کر سکے یا نہیں۔ یہ پیشرفت امریکی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے 6 جنوری کے واقعات کے حوالے سے نئے انکشافات متوقع ہیں۔