World
ڈونلڈ ٹرمپ کے فوجی آپشنز اور امریکی خارجہ پالیسی کے چیلنجز
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے خارجہ پالیسی اور سلامتی کے امور میں کئی فوجی آپشنز موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں ان میں سے کوئی بھی آپشن آسان یا خطرے سے خالی نہیں ہے۔
واشنگٹن: امریکہ کے آئندہ صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تنازعات اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متعدد فوجی آپشنز موجود ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کم از کم تین اہم فوجی راستے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی آپشن مثالی یا آسان نہیں ہے۔ بین الاقوامی امور کے تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال میں ہر قدم انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے۔
پہلا آپشن یہ ہے کہ روایتی طاقت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے دنیا بھر میں امریکی عسکری موجودگی کو برقرار رکھا جائے اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر حریف ممالک پر دباؤ ڈالا جائے۔ تاہم، اس آپشن میں مالی لاگت بہت زیادہ ہے اور اس سے براہ راست مسلح تصادم کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے جو ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسرا آپشن یہ ہے کہ فوجی اخراجات اور براہ راست مداخلت کو کم کرتے ہوئے مکمل طور پر تنہائی پسندی یا محدود دفاعی حکمت عملی اپنائی جائے۔ اس حکمت عملی کے تحت امریکہ اپنی افواج کو اندرونی سرحدوں پر سمیٹ سکتا ہے یا صرف انتہائی اہم اسٹریٹجک پوائنٹس تک محدود کر سکتا ہے۔ لیکن اس سے عالمی سطح پر امریکی اثر و رسوخ میں کمی آ سکتی ہے اور حریف ممالک کو اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔
تیسرا اور درمیانی راستہ یہ ہے کہ ڈرون حملوں، سائبر وارفیئر اور پراکسی یا مقامی اتحادیوں کے ذریعے ہائبرڈ جنگ لڑی جائے۔ اس حکمت عملی میں امریکی فوجیوں کی جانوں کا ضیاع تو کم ہوتا ہے لیکن اس کے سٹریٹجک نتائج ہمیشہ غیر یقینی ہوتے ہیں اور اتحادی ممالک میں عدم اعتماد پیدا ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کو ان تینوں مشکل راہوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا جو کہ آنے والے دنوں میں امریکی خارجہ پالیسی کا رخ طے کرے گا۔