Health
پالتو جانور کھونے کا صدمہ: نفسیاتی اثرات اور غم کا اظہار
پالتو جانور کو کھو دینا ایک ایسا دکھ ہے جس کی شدت کا اندازہ صرف ایک پالتو مالک ہی لگا سکتا ہے۔ ہیلینا ولکنسن کے مطابق اس عمل میں غم کے ساتھ ساتھ شدید قسم کا پچھتاوا بھی شامل ہوتا ہے۔
پالتو جانور کو کھو دینا کسی بھی انسان کے لیے زندگی کے مشکل ترین تجربات میں سے ایک ہوتا ہے۔ حال ہی میں مشہور براڈکاسٹر گریگ جیمز نے بھی اپنے پالتو کتے کی وفات پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کیا، جس کے بعد اس موضوع پر بحث چھڑ گئی ہے کہ جانوروں کی موت پر ہونے والے غم کو سماج میں کس قدر سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ لکھاری ہیلینا ولکنسن کا کہنا ہے کہ یہ غم انتہائی پیچیدہ ہوتا ہے کیونکہ انسان کا اپنے پالتو جانور کے ساتھ تعلق محض ایک جانور تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک اٹوٹ رشتے کی مانند ہوتا ہے۔
اس دکھ کا ایک بڑا پہلو 'گناہ کا احساس' یا پچھتاوا ہے۔ اکثر مالکان اس سوچ میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ کیا وہ اپنے پالتو جانور کے آخری دنوں میں مزید بہتر دیکھ بھال کر سکتے تھے، یا کیا طبی سہولیات بروقت فراہم کی گئی تھیں۔ یہ خود احتسابی کا عمل غم کی کیفیت کو مزید گھمبیر بنا دیتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق پالتو جانور ہماری روزمرہ کی زندگی میں اتنی گہرائی سے شامل ہوتے ہیں کہ ان کی موجودگی ختم ہونے کے بعد گھر میں ہونے والی خاموشی انسان کو شدید تنہائی اور خالی پن کے احساس میں مبتلا کر دیتی ہے۔
گھریلو جانوروں کے جانے کے بعد پیدا ہونے والا خلا صرف ایک ساتھی کی جدائی نہیں، بلکہ ان تمام لمحات کی گمشدگی ہے جو مالک نے ان کے ساتھ گزارے ہوتے ہیں۔ معاشرتی سطح پر اکثر اس دکھ کو معمولی سمجھا جاتا ہے، جسے 'ڈس انفارمڈ گریونگ' کہا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ صرف ایک جانور تھا، لیکن متاثرہ فرد کے لیے یہ خاندان کے ایک اہم رکن کی موت کے مترادف ہے۔ اس صورتحال میں جذباتی توازن برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کیا جائے اور اس دکھ کو تسلیم کیا جائے تاکہ ذہن کو سکون مل سکے۔
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پالتو جانور کا غم کوئی عارضی کیفیت نہیں بلکہ یہ ایک طویل عمل کا نام ہے۔ جو لوگ اپنے پالتو جانوروں کو کھو دیتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنے غم کو چھپانے کے بجائے اسے قبول کریں اور اگر ضرورت محسوس ہو تو کسی ماہر نفسیات یا ایسے گروپس سے رجوع کریں جو اس طرح کے صدمے سے گزرنے والوں کی مدد کرتے ہیں۔ اپنے ساتھی کی یادوں کو محفوظ رکھنا اور ان کی زندگی کے خوشگوار لمحات کو یاد کرنا اس تکلیف دہ عمل سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔