World
کولمبیا زلزلہ: لاپتہ افراد کی تلاش میں حکومتی غفلت پر عوام کا احتجاج
کولمبیا کے شہر کالی میں 7.4 شدت کے تباہ کن زلزلے کے بعد ملبے تلے دبے افراد کی سست رفتار تلاش پر خاندانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ متاثرین نے حکومتی امدادی کارروائیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
کولمبیا کے شہر کالی میں پیر کے روز آنے والے 7.4 شدت کے ہولناک زلزلے نے تباہی کے مناظر چھوڑ دیے ہیں، جس کے بعد اب صورتحال تشویشناک رخ اختیار کر گئی ہے۔ زلزلے کے نتیجے میں کئی عمارتیں زمین بوس ہو گئیں جن کے ملبے تلے اب بھی درجنوں افراد کے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم، حادثے کے کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود متاثرہ خاندانوں کی جانب سے ریسکیو ٹیموں کی سست روی اور امدادی کارروائیوں میں تاخیر پر سخت برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ملبے تلے دبے پیاروں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ حکومتی ادارے اور امدادی ٹیمیں بروقت کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تلاش اور بچاؤ کی سرگرمیوں کو تیز کیا جائے کیونکہ ہر گزرتا لمحہ ملبے تلے موجود افراد کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ جائے وقوعہ پر موجود افراد کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پیاروں کو خود نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ریسکیو کا عمل نہ صرف سست ہے بلکہ جدید مشینری کا استعمال بھی تسلی بخش نہیں ہے۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت بہت زیادہ تھی جس کی وجہ سے کئی علاقوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے، تاہم وہ اپنی تمام تر توانائیاں انسانی جانیں بچانے کے لیے وقف کر رہے ہیں۔ لیکن زمینی حقائق کچھ اور بتا رہے ہیں، جہاں لوگ مایوسی کے عالم میں سڑکوں پر آ کر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر بھاری مشینری اور اضافی امدادی اہلکار تعینات نہ کیے گئے تو قیمتی جانوں کا ضیاع مزید بڑھ سکتا ہے۔
بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی کولمبیا میں آنے والے اس زلزلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فی الحال، کالی شہر میں ہنگامی صورتحال برقرار ہے اور مقامی ہسپتالوں میں بھی زخمیوں کے لیے سہولیات کی قلت پیدا ہونے لگی ہے۔ حکومت کی جانب سے متاثرین کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، لیکن عوام کا غصہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرانی کیفیت میں حکومتی انتظامات ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔