LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی سیاست: نیتنیاہو کا امریکی اثر و رسوخ اور بڑھتا ہوا دباؤ

News Image
امریکی تعلقات میں کشیدگی کے بعد وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو کے واشنگتن میں بے مثال اثر و رسوخ کے دعوے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اندرون ملک ناقدین ان کی خارجہ پالیسی کی کامیابیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو کے سیاسی کیریئر کا ایک بڑا ستون ہمیشہ سے واشنگتن کے ساتھ ان کے خصوصی تعلقات اور امریکی ایوانِ اقتدار میں ان کا غیر معمولی اثر و رسوخ رہا ہے۔ تاہم، حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بدلتی ہوئی حرکیات نے اس تاثر کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتنیاہو کا یہ روایتی 'ٹرمپ کارڈ' یا امریکی اثر و رسوخ اب پہلے کی طرح مؤثر ثابت نہیں ہو رہا، جس سے ان کی ملکی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ واشنگتن کے ساتھ بڑھتی ہوئی دوری اور سفارتی سطح پر پیدا ہونے والی خلیج نے اسرائیلی عوام اور سیاسی حریفوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا نیتنیاہو اب بھی دوطرفہ تعلقات کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسری جانب، امریکہ میں بھی سیاسی منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے جہاں روایتی اسرائیلی اتحادیوں کے اندر بھی اسرائیل کی موجودہ پالیسیوں بالخصوص غزہ اور خطے کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس پس منظر میں نیتنیاہو کے وہ دعوے کمزور پڑتے دکھائی دے رہے ہیں جن میں وہ خود کو واحد رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں جو وائٹ ہاؤس کے ساتھ بہترین تعلقات رکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر امریکی حکومت کے ساتھ یہ تناؤ برقرار رہتا ہے تو اس کا براہ راست اثر نیتنیاہو کی داخلی پوزیشن پر پڑے گا، جو پہلے ہی اندرونی خلفشار اور عدالتی تنازعات کی زد میں ہے۔ اسرائیلی اپوزیشن جماعتیں اور ناقدین اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ حکومت کی جانب سے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو جس طرح ہینڈل کیا گیا ہے، اس نے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالا ہے۔ نیتنیاہو کے لیے یہ ایک نازک موڑ ہے کیونکہ ان کی سیاسی بقا ہمیشہ سے اس شبیہ پر منحصر رہی ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے سب سے بڑے محافظ ہیں۔ اب جب کہ واشنگتن میں ان کے اثر و رسوخ پر سوالیہ نشان لگ چکے ہیں، آنے والے دنوں میں اسرائیلی سیاست میں نئے ہلچل کے آثار دکھائی دے رہے ہیں اور عوام بھی اس تبدیلی کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔