Technology
پونی اے آئی اور اوبر کا یورپی مارکیٹ میں روبوٹیکسی سروس شروع کرنے کا فیصلہ
پونی اے آئی اور اوبر نے اپنی شراکت داری کو مزید وسیع کرتے ہوئے یورپ کے چار بڑے شہروں میں دو ہزار سے زائد خودکار روبوٹیکسیاں چلانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام دونوں کمپنیوں کے درمیان پہلے سے جاری تعاون کی اگلی کڑی ہے جس کا مقصد یورپی مارکیٹ میں جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہے۔
گلوبل ٹیکنالوجی کمپنی پونی اے آئی (Pony.ai) اور رائیڈ ہیلنگ کی معروف کمپنی اوبر نے اپنے اسٹریٹجک تعاون کو ایک نئے اور اہم سنگ میل تک پہنچا دیا ہے۔ دونوں کمپنیوں کے درمیان ہونے والے حالیہ معاہدے کے تحت یورپ کے مختلف شہروں میں 2000 سے زائد خودکار (Autonomous) ٹیکسیاں یعنی روبوٹیکسیاں چلائی جائیں گی۔ یہ منصوبہ ماضی میں زغرب میں شروع کی گئی شراکت داری کی کامیابی کے بعد تشکیل دیا گیا ہے، جس کا دائرہ کار اب براعظم یورپ کے مزید چار بڑے شہروں تک بڑھایا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ٹرانسپورٹ کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے نفاذ کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔
اس منصوبے کے تحت دونوں کمپنیاں اپنی مشترکہ مہارت کو استعمال کرتے ہوئے جدید ترین خود مختار ڈرائیونگ سافٹ ویئر اور اوبر کے عالمی نیٹ ورک کو ایک پلیٹ فارم پر لائیں گی۔ پونی اے آئی، جو کہ خودمختار گاڑیوں کی ٹیکنالوجی میں دنیا بھر میں ایک نمایاں نام ہے، اس سروس کے لیے گاڑیوں کی سپلائی اور تکنیکی مدد فراہم کرے گی، جبکہ اوبر ان گاڑیوں کو اپنی ایپلی کیشن کے ذریعے مسافروں تک پہنچانے کے عمل کو منظم کرے گی۔ کمپنی کے حکام کے مطابق، اس اقدام کا مقصد نہ صرف یورپی عوام کو محفوظ اور جدید سفری سہولیات فراہم کرنا ہے بلکہ ٹریفک کے مسائل میں کمی لانا اور ماحول دوست نقل و حمل کو فروغ دینا بھی شامل ہے۔
تجزیہ کار اس شراکت داری کو خود مختار گاڑیوں کی صنعت میں ایک بڑی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔ یورپ کی سخت حفاظتی پالیسیوں کے باوجود، یہ منصوبہ مقامی ضوابط اور معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے تاکہ مسافروں کی حفاظت کو ہر ممکن یقینی بنایا جا سکے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، 2026 تک ان گاڑیوں کی تنصیب کا عمل مکمل کر لیا جائے گا، جس سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی نئی راہیں بھی کھلیں گی۔ اس پروجیکٹ کی کامیابی کے بعد امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مستقبل قریب میں اسے دنیا کے دیگر خطوں میں بھی لاگو کیا جائے گا، جس سے روایتی ٹیکسی سروسز کا نقشہ بدل کر رہ جائے گا۔