Business
کارز 24 اور سپنی کی نئی کاروباری حکمت عملی
بھارت کی بڑی آٹو مارکیٹ کمپنیاں منافع کے اہداف حاصل کرنے کے لیے اپنی کاروباری حکمت عملیوں میں تیزی سے تبدیلیاں لا رہی ہیں۔ یہ کمپنیاں کاروں کی فروخت کے ساتھ ساتھ اب مالیاتی خدمات اور مصنوعی ذہانت کے استعمال پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔
بھارت کی معروف آٹو مارکیٹ پلیٹ فارمز جن میں کارز 24 (Cars24)، سپنی (Spinny) اور ڈروم (Droom) شامل ہیں، اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ یہ کمپنیاں اپنی بنیادی کار فروخت کرنے کی سرگرمیوں سے ہٹ کر نئے ترقیاتی راستوں کی تلاش میں ہیں تاکہ طویل عرصے سے جاری مالی خسارے کو کم کر کے منافع کے اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔ ان کمپنیوں کے لیے صرف کاروں کی خرید و فروخت اب کافی نہیں رہی، جس کے پیش نظر وہ اپنی کاروباری حکمت عملیوں کو مکمل طور پر تبدیل کرنے پر مجبور ہیں۔
کارز 24 نے اپنی خدمات کو وسیع کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ کمپنی نہ صرف گاڑیوں کی تشخیص کے عمل میں جدید ٹیکنالوجی کو شامل کر رہی ہے بلکہ اب ذاتی قرضوں (Personal Loans) اور کریڈٹ سکور سروسز کے میدان میں بھی داخل ہو چکی ہے۔ کار فنانسنگ کے شعبے میں توسیع کے ذریعے کمپنی اپنے کسٹمر بیس کو ایک ہی چھت تلے تمام مالیاتی سہولیات فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تاکہ آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کیے جا سکیں۔
دوسری جانب سپنی (Spinny) نے بھی اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کے شعبے میں قدم جمائے ہیں۔ کمپنی نے اوریجنل ایکوپمنٹ مینوفیکچررز (OEMs) کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ ایک مصدقہ 'پری اونڈ' الیکٹرک گاڑیوں کا ماحولیاتی نظام تشکیل دیا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد مستقبل کی ٹرینڈز کے مطابق خود کو ڈھالنا ہے کیونکہ مارکیٹ میں الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سپنی کا یہ قدم اسے روایتی گاڑیوں کے ڈیلرز سے منفرد بنانے میں مدد دے رہا ہے۔
مجموعی طور پر یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ بھارتی آٹو مارکیٹ اب ٹیکنالوجی اور مالیاتی خدمات کے امتزاج کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ڈروم جیسی دیگر کمپنیوں نے بھی اپنے پلیٹ فارم کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ڈیجیٹل ٹولز کا سہارا لینا شروع کیا ہے۔ اگرچہ ان تمام پلیئرز کے لیے منافع کا حصول اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن جس طرح سے یہ کمپنیاں تنوع (Diversification) کو اپنا رہی ہیں، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کی کاروباری ساکھ اور مالیاتی استحکام میں بہتری متوقع ہے۔