World
فوٹو جرنلسٹ یلدا معیری کو ایران میں 15 سال قید کی سزا
ایران کی ایک عدالت نے عالمی شہرت یافتہ فوٹو جرنلسٹ یلدا معیری کو پندرہ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ فیصلہ ایرانی صحافیوں کے قومی دن کے موقع پر سامنے آیا ہے جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایران کی جانب سے صحافیوں کے قومی دن کے موقع پر ایک افسوسناک فیصلہ سامنے آیا ہے جس میں معروف اور ایوارڈ یافتہ فوٹو جرنلسٹ یلدا معیری کو 15 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یلدا معیری بین الاقوامی سطح پر اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے لیے جانی جاتی ہیں اور گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دنیا بھر میں جاری تنازعات، انسانی بحرانوں اور اہم سماجی و سیاسی واقعات کو اپنے کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کر رہی ہیں۔ ان کی گرفتاری اور سزا کے اعلان نے عالمی سطح پر میڈیا اور انسانی حقوق کے محافظوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔
یلدا معیری کا شمار ان باہمت صحافیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے خطرے کے باوجود میدانِ عمل میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ ان کے کیریئر کے دوران انہوں نے کئی بین الاقوامی ایوارڈز حاصل کیے اور اپنی تصاویر کے ذریعے دنیا کو انسانیت کے درپیش سنگین مسائل سے آگاہ کیا۔ تاہم، ایران کی جانب سے انہیں دی گئی یہ طویل قید کی سزا آزادیِ صحافت پر ایک بڑا حملہ قرار دی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکام نے ان پر مختلف الزامات عائد کیے ہیں جن کی بنیاد ان کی کوریج اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کو بنایا گیا ہے، جس کی قانونی حیثیت پر عالمی مبصرین نے سوالات اٹھائے ہیں۔
صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یلدا معیری کو صرف اپنے فرائض منصبی سرانجام دینے کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ اس سزا کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران میں میڈیا کے کردار اور حکومتی پالیسیوں پر شدید بحث جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق یلدا معیری کا معاملہ ایران میں آزادی اظہار رائے کے سکڑتے ہوئے دائرہ کار کی ایک اور مثال ہے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اب ایرانی حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے اور گرفتار صحافی کی فوری رہائی کو یقینی بنائے۔
فی الحال اس کیس کے حوالے سے قانونی چارہ جوئی کے راستے تاحال کھلے ہیں یا نہیں، اس پر کوئی واضح تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ تاہم، یلدا معیری کے ساتھیوں اور دنیا بھر کے صحافتی حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ میڈیا کے نمائندوں کو ان کے کام کی وجہ سے نشانہ بنانا بند کیا جائے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک فرد کی آزادی بلکہ پوری صحافتی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جو یہ باور کراتا ہے کہ مشکل حالات میں سچ کی آواز بلند کرنا کتنا دشوار گزار مرحلہ بن چکا ہے۔