LIVE
Loading Breaking News...

کیٹیگری ڈیزائن اور انسانی سوچ کا فلسفہ

News Image
مصنف کا ماننا ہے کہ چیزوں کو زمروں میں تقسیم کرنا فطری ہے مگر ہر چیز کو ایک خاص 'کیٹیگری ڈیزائن' کے سانچے میں ڈھالنا غیر ضروری ہے۔ یہ مضمون پیچیدگی اور انسانی ادراک کے درمیان تعلق کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
تصور کریں کہ آپ ساحل سمندر پر چل رہے ہیں اور اچانک آپ کو ریت میں ایک گھڑی ملتی ہے۔ آپ اسے اٹھاتے ہیں، اس کے پیچیدہ میکانزم کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ اس کے تمام پرزے کتنی نفاست اور درستگی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ آپ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اتنی پیچیدہ اور باریک بینی سے تیار کردہ چیز اتفاقاً وجود میں نہیں آ سکتی، بلکہ اس کے پیچھے یقیناً کسی ذہین تخلیق کار کا ہاتھ ہے۔ یہ مثال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انسان کے طور پر ہم چیزوں کو منظم کرنے اور انہیں مختلف زمروں یا کیٹیگریز میں تقسیم کرنے کے عادی ہیں۔ لیکن کیا یہ تقسیم ہمیشہ درست ہوتی ہے؟ آج کل بزنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں 'کیٹیگری ڈیزائن' کا تصور بہت مقبول ہو چکا ہے۔ بہت سے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اگر آپ مارکیٹ میں کوئی نئی کیٹیگری نہیں بناتے تو آپ کامیاب نہیں ہو سکتے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم چیزوں کو سمجھنے کے لیے زمرے بنانے کے محتاج ہیں یا پھر ہم نے مصنوعی طور پر ان زمروں کو اپنی ترقی کی بنیاد بنا لیا ہے۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ میں کیٹیگریز پر تو یقین رکھتا ہوں کیونکہ یہ انسانی ذہن کو معلومات کی پروسیسنگ میں مدد دیتی ہیں، لیکن میں 'کیٹیگری ڈیزائن' کے اس جدید فلسفے پر تحفظات رکھتا ہوں۔ کیٹیگری ڈیزائن کا موجودہ نظریہ اکثر مارکیٹنگ کے شعبے میں ایک ایسا جادوئی حل لگتا ہے جسے ہر کاروباری شخصیت اپنا لینا چاہتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تمام اہم ایجادات کسی 'ڈیزائن' کے نتیجے میں نہیں بلکہ ایک مسئلے کے حل کے لیے سامنے آئیں۔ پیچیدگی کو سمجھنا ایک الگ عمل ہے اور کسی چیز کو زبردستی ایک نئے لیبل کے تحت مارکیٹ کرنا بالکل مختلف۔ جب ہم کسی چیز کو کیٹیگری ڈیزائن کے سانچے میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، تو ہم اکثر اس کی اصل افادیت اور اس کے فطری ارتقاء کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دنیا کی ہر چیز کو کسی نہ کسی باکس میں بند کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جس طرح فطرت میں چیزیں اپنے آپ کو وقت اور ضرورت کے مطابق ڈھالتی ہیں، اسی طرح نظریات اور مصنوعات کو بھی ان کی اصل ماہیت پر رہنے دیا جانا چاہیے۔ کیٹیگریز صرف ہماری سہولت کے لیے ہونی چاہئیں نہ کہ ہماری سوچ پر پہرا لگانے کا ذریعہ۔ ایک کامیاب بزنس ماڈل وہی ہے جو حدود سے باہر نکل کر سوچ سکے، نہ کہ صرف کسی نئی کیٹیگری کا لیبل لگا کر خود کو محدود کر لے۔