LIVE
Loading Breaking News...

بیٹری پی ایل آئی سکیم: اوالا اور ریلائنس کو مہلت، راجیش ایکسپورٹس کو بڑا جھٹکا

News Image
بھارتی حکومت نے بیٹری مینوفیکچرنگ کے پی ایل آئی پروگرام کے تحت اوالا الیکٹرک اور ریلائنس نیو انرجی کو اپنے پروجیکٹس مکمل کرنے کے لیے ڈیڈ لائن میں توسیع دے دی ہے۔ اس فیصلے سے راجیش ایکسپورٹس کو باہر رکھا گیا ہے جس کی وجہ کمپنی کے خلاف جاری سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا کی تحقیقات بتائی جا رہی ہیں۔
بھارتی حکومت کی جانب سے بیٹری مینوفیکچرنگ کے پروڈکشن لنکڈ انسنٹو (پی ایل آئی) پروگرام میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت دو بڑی کمپنیوں اوالا الیکٹرک اور ریلائنس نیو انرجی (ریلائنس انڈسٹریز کی ذیلی کمپنی) کو اپنے منصوبوں کی تکمیل کے لیے ڈیڈ لائن میں توسیع دے دی گئی ہے۔ اب یہ کمپنیاں اپنے اہداف کو 2031 تک مکمل کر سکیں گی، جس سے انہیں اپنے مینوفیکچرنگ یونٹس کو مزید بہتر بنانے اور پیداواری اہداف حاصل کرنے کا اضافی وقت مل گیا ہے۔ یہ اقدام الیکٹرک وہیکل سیکٹر اور گرین انرجی کے شعبے میں خود انحصاری کے حکومتی عزم کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم، اس حکومتی فیصلے سے راجیش ایکسپورٹس لمیٹڈ کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے کیونکہ اسے توسیع کی سہولت سے محروم رکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ راجیش ایکسپورٹس کو اس رعایت سے باہر رکھنے کی بنیادی وجہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) کی جانب سے جاری تحقیقات ہیں۔ کمپنی کے گورننس معاملات اور دیگر مالیاتی امور پر سوالات اٹھنے کے بعد حکومت نے احتیاطی تدابیر کے پیش نظر اسے موجودہ توسیع کے دائرہ کار سے نکال دیا ہے۔ اس فیصلے نے کاروباری حلقوں میں کافی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ پی ایل آئی سکیم کے تحت دیگر کمپنیوں کو تو ریلیف ملا لیکن راجیش ایکسپورٹس کے لیے صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ بیٹری پی ایل آئی پروگرام کا مقصد ملک کے اندر ہی جدید بیٹریوں کی پیداوار کو فروغ دینا ہے تاکہ درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے۔ اوالا الیکٹرک اور ریلائنس نیو انرجی کو ملنے والی اس توسیع سے یہ کمپنیاں طویل مدتی سرمایہ کاری کے اپنے اہداف کو زیادہ بہتر طریقے سے ترتیب دے سکیں گی۔ صنعت کاروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کی رعایتیں نہ صرف ٹیکنالوجی کی منتقلی میں مددگار ثابت ہوں گی بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔ دوسری جانب، راجیش ایکسپورٹس کی جانب سے ان الزامات یا فیصلے پر فی الحال کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم مارکیٹ کے تجزیہ کار اسے کمپنی کے لیے ایک چیلنجنگ صورتحال قرار دے رہے ہیں۔ مستقبل کے تناظر میں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا راجیش ایکسپورٹس تحقیقات سے کلین چٹ ملنے کے بعد دوبارہ اس پروگرام میں شامل ہو پاتی ہے یا نہیں۔ حکومت کی جانب سے شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے والے ایسے اقدامات جہاں ایک طرف قواعد و ضوابط کی پاسداری کو یقینی بناتے ہیں، وہیں دوسری طرف بڑی کمپنیوں کے لیے اپنے شفاف کاروباری ریکارڈ کو برقرار رکھنا بھی لازمی بنا دیتے ہیں۔ اس پوری صورتحال کا الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کے مستقبل پر گہرا اثر پڑے گا کیونکہ بیٹری کی قیمتوں میں کمی اور دستیابی ہی اس شعبے کی ترقی کا دارومدار ہے۔