LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں تیزی، شرح سود میں کمی کی توقعات

News Image
امریکہ میں خوردہ فروخت کے مایوس کن اعداد و شمار اور افراطِ زر میں کمی کے باعث شرح سود میں اضافے کی توقعات کم ہو گئی ہیں، جس سے عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں کو سہارا ملا ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے ڈالر کی قدر میں کمی کے بعد سونے کی خریداری میں دلچسپی دیکھی جا رہی ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں سونے کی قیمتوں میں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکہ میں جاری ہونے والے خوردہ فروخت کے کمزور اعداد و شمار اور افراطِ زر کی شرح میں کمی بتائی جا رہی ہے۔ ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ ان تازہ ترین معاشی رپورٹس کے بعد امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات کافی حد تک کم ہو گئے ہیں، جس کے اثرات براہِ راست سونے کی عالمی قیمتوں پر مرتب ہوئے ہیں۔ سونے کے خریداروں کے لیے یہ صورتحال ایک مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ شرح سود میں استحکام یا کمی سونے کی قدر میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ دوسری جانب امریکی ڈالر کی قدر میں حالیہ کمزوری نے بھی سونے کی قیمتوں کو اوپر جانے میں مدد فراہم کی ہے۔ فاریکس مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، جب ڈالر کی قدر میں کمی آتی ہے تو سرمایہ کار سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ترجیح دیتے ہیں، جس سے اس کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم، تیل کی قیمتوں میں جاری غیر یقینی صورتحال نے سونے کے مستقبل کے رجحان کو کچھ حد تک غیر مستحکم رکھا ہوا ہے، جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔ اگرچہ حالیہ اعداد و شمار نے سونے کی قیمتوں کو وقتی سہارا دیا ہے، لیکن تجارتی رپورٹس کے مطابق سونے کی یہ پیش قدمی کچھ تکنیکی دباؤ کا شکار بھی ہے۔ سرمایہ کاروں کی ایک بڑی تعداد افراطِ زر سے منسلک حالیہ تیزی کے بعد اب اپنے منافع کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے باعث ہفتہ وار بنیادوں پر سونے کی قیمتوں میں معمولی کمی کا رجحان بھی دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں امریکی مرکزی بینک کے پالیسی فیصلوں اور مزید معاشی اشاریوں پر مارکیٹ کی نظریں مرکوز رہیں گی، جو سونے کی آئندہ سمت کا تعین کریں گی۔ مختصراً یہ کہ موجودہ معاشی منظر نامہ سونے کے لیے ملے جلے اثرات کا حامل ہے۔ ایک طرف شرح سود میں اضافے کے رکنے کی امیدیں سونے کے لیے تقویت کا باعث ہیں، تو دوسری طرف عالمی توانائی بحران اور تیل کی قیمتوں کی اونچ نیچ سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مارکیٹ کے غیر یقینی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مالی فیصلے کریں کیونکہ عالمی معیشت میں کسی بھی بڑی تبدیلی کا اثر براہِ راست سونے کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔