World
کولمبیا زلزلہ: بیونا وینٹورا میں حکومتی بے حسی پر شہریوں کا ردعمل
کولمبیا کے شہر بیونا وینٹورا میں حالیہ زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں میں تاخیر اور حکومتی عدم توجہی پر مقامی آبادی شدید برہم ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پسماندہ علاقوں کو نظر انداز کرنے کے ایک طویل عرصے سے جاری سرکاری رویے کا تسلسل ہے۔
کولمبیا کے ساحلی شہر بیونا وینٹورا میں آنے والے زلزلے کے بعد مقامی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے، جبکہ حکومتی سطح پر فوری امداد کی عدم دستیابی نے عوام میں شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ علاقے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ قدرتی آفت کے اس نازک وقت میں ریاستی اداروں کی جانب سے لاپرواہی اور بے حسی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پسماندہ علاقوں کے عوام کو حکومتی ترجیحات میں کوئی مقام حاصل نہیں ہے۔ زلزلے سے متاثرہ بہت سے گھروں کو نقصان پہنچا ہے اور لوگ کھلے آسمان تلے یا غیر محفوظ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ واقعہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر حکومتی پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت بیونا وینٹورا جیسے غریب علاقوں کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ شہر کے دیگر حصوں میں امدادی ٹیمیں پہنچیں، لیکن ان کے علاقوں کو یکسر فراموش کر دیا گیا ہے، جس سے مقامی انتظامیہ کی نیت اور کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس صورتحال نے شہریوں کو سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور کر دیا ہے تاکہ ان کی آواز حکمرانوں تک پہنچ سکے۔
ماہرین کے مطابق بیونا وینٹورا طویل عرصے سے بنیادی ڈھانچے کی کمی اور سماجی مسائل کا شکار ہے، اور زلزلے جیسے ہنگامی حالات نے ان بنیادی کمزوریوں کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت فوری طور پر ریلیف آپریشن کو تیز کرے اور متاثرین کو رہائش اور خوراک کی فراہمی یقینی بنائے۔ صرف وقتی امداد ہی کافی نہیں ہے، بلکہ حکومت کو طویل مدتی تعمیر نو کے منصوبوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے نقصانات سے بچا جا سکے۔
فی الحال، مقامی تنظیمیں اور کمیونٹی کے رضاکار اپنی مدد آپ کے تحت امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، لیکن وسائل کی کمی کے باعث ان کی کوششیں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔ اگر حکومت کی جانب سے فوری مداخلت نہ کی گئی تو یہ انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکام کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور بیونا وینٹورا کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے، کیونکہ یہ ان کے بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔