LIVE
Loading Breaking News...

پوسٹ مارٹم اسپرم ریٹریول: کیا میت سے نطفہ حاصل کرنا قانونی ہے؟

News Image
موت کے بعد نطفے کے حصول کا عمل قانونی اور اخلاقی طور پر انتہائی پیچیدہ معاملہ ہے جس کے لیے سخت ضوابط موجود ہیں۔ عام طور پر یہ عمل تب ہی ممکن ہے جب متوفی نے اپنی زندگی میں اس کے لیے واضح تحریری اجازت دی ہو۔
جدید طبی سائنس نے جہاں انسان کی بہت سی مشکلات کو حل کیا ہے، وہیں کچھ ایسے معاملات بھی سامنے آئے ہیں جو قانونی اور اخلاقی لحاظ سے انتہائی پیچیدہ نوعیت کے ہیں۔ انہی میں سے ایک سوال یہ ہے کہ کیا کسی فوت شدہ شخص کے نطفے یعنی اسپرم کا حصول قانونی ہے؟ طبی اصطلاح میں اسے 'پوسٹ مارٹم اسپرم ریٹریول' کہا جاتا ہے۔ عام اصول کے مطابق، کسی بھی شخص کی وفات کے بعد اس کے جسم کے اعضاء یا خلیات کے حصول کے لیے سخت قوانین لاگو ہوتے ہیں، اور اسپرم کا معاملہ بھی انہی ضوابط کے تحت آتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، کسی فوت شدہ شخص سے اسپرم حاصل کرنا بذاتِ خود ایک قانونی جرم سمجھا جا سکتا ہے اگر اس کے لیے قانونی اجازت یا متوفی کی جانب سے زندگی میں دی گئی واضح رضامندی موجود نہ ہو۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں قانون اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی موت کے بعد اپنی تولیدی صلاحیت کو استعمال کرنے کی خواہش رکھتا ہے، تو اسے تحریری طور پر اس کی وصیت کرنی چاہیے۔ بغیر کسی قانونی دستاویز یا عدالتی اجازت کے یہ عمل کسی صورت میں بھی ممکن نہیں اور اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔ اخلاقی نقطہ نظر سے بھی یہ موضوع کافی متنازعہ رہا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ موت کے بعد اسپرم نکالنے کا عمل نہ صرف ایک جذباتی اور تکلیف دہ مرحلہ ہو سکتا ہے، بلکہ اس سے جڑے قانونی نتائج بھی بہت سنگین ہوتے ہیں۔ اس عمل میں سب سے اہم عنصر 'باخبر رضامندی' ہے۔ اگر متوفی نے اپنی زندگی میں کبھی ایسی کوئی خواہش ظاہر نہیں کی تھی، تو کسی بھی طبی ادارے یا لواحقین کے لیے اس قسم کا اقدام اٹھانا اخلاقی حدود کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔ لہذا، دنیا بھر میں طبی کونسلز اس پر انتہائی سخت موقف رکھتی ہیں اور صرف خاص حالات میں ہی قانونی چارہ جوئی کے بعد اجازت دی جاتی ہے۔ مستقبل میں جیسے جیسے ٹیکنالوجی مزید ترقی کرے گی، ان قوانین میں مزید وضاحت کی ضرورت پڑے گی۔ معاشرتی اور مذہبی تناظر میں بھی اس عمل کو زیادہ پذیرائی حاصل نہیں ہے، کیونکہ اس میں وراثت، نسب اور خاندانی حقوق کے مسائل بھی جڑے ہو سکتے ہیں۔ لہذا، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ کوئی عام طبی عمل نہیں ہے بلکہ یہ ایک انتہائی حساس قانونی مسئلہ ہے جس کے لیے عدالتی فیصلوں اور سخت ضابطہ اخلاق کی پابندی ناگزیر ہے۔