Business
بھارتی تعلیمی مارکیٹ کا حجم 2030 تک 26 ارب ڈالر ہونے کی پیش گوئی
ریڈسیر اسٹریٹجی کنسلٹنٹس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسابقتی امتحانات کی تیاری کا بازار تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ توقع ہے کہ مالی سال 2030 تک یہ انڈسٹری 23 سے 26 ارب ڈالر کی سطح کو چھو لے گی۔
بھارت میں مسابقتی امتحانات کی تیاری کا بازار تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے اور معروف مارکیٹ ریسرچ فرم ریڈسیر اسٹریٹجی کنسلٹنٹس کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، یہ شعبہ مالی سال 2030 تک 23 سے 26 ارب ڈالر کے حجم تک پہنچ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیم اور تکنیکی مہارتوں کے حصول کے لیے بڑھتی ہوئی طلب اور طلبا کی بڑی تعداد اس مارکیٹ میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔ یہ پیش گوئی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تعلیمی ٹیکنالوجی اور کوچنگ سینٹرز کا نیٹ ورک بھارت کی معیشت میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔
اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تعلیمی شعبے میں ڈیجیٹل تبدیلی اور آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز کی مقبولیت نے اس مارکیٹ کے پھیلاؤ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ روایتی کلاس رومز کے ساتھ ساتھ ہائبرڈ ماڈلز، یعنی آن لائن اور آف لائن تعلیم کا امتزاج، طلبہ میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ خاص طور پر سرکاری ملازمتوں کے امتحانات، انجینئرنگ، میڈیکل اور غیر ملکی یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے ٹیسٹ پریپریشن کا شعبہ مسلسل منافع بخش ثابت ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کی توجہ اس جانب مبذول ہوئی ہے۔
بھارت میں جاری یہ تعلیمی انقلاب نہ صرف بڑے شہروں تک محدود ہے بلکہ چھوٹے شہروں کے طلبہ بھی اب معیاری کوچنگ تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔ ریڈسیر کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر حکومتی سطح پر تعلیمی پالیسیوں میں مزید بہتری لائی گئی اور ٹیکنالوجی تک رسائی کو عام کیا گیا تو یہ ہدف مزید تیزی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس مارکیٹ میں مسابقت بھی بڑھ رہی ہے، جس کے باعث سروس فراہم کرنے والے ادارے اپنے مواد اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں تاکہ وہ عالمی سطح پر بھی اپنی جگہ بنا سکیں۔
آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ چند سال بھارت کے تعلیمی سیکٹر کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔ 26 ارب ڈالر کا ہدف نہ صرف تعلیمی میدان میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرے گا بلکہ روزگار کے نئے دروازے بھی کھولے گا، جس سے بھارت کی مجموعی جی ڈی پی پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ تعلیم اب محض ایک سماجی ضرورت نہیں بلکہ ایک بڑی تجارتی صنعت کا روپ دھار چکی ہے۔