LIVE
Loading Breaking News...

جیلی فش کے حملے سے جوہری ری ایکٹر بند: فرانس میں نئی صورتحال

News Image
شمالی فرانس کے ایک جوہری پاور پلانٹ کو سمندری جیلی فش کے بڑی تعداد میں جمع ہونے کے باعث دوسری مرتبہ بند کرنا پڑا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پانی کے نظام میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے جس سے ری ایکٹر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
شمالی فرانس میں واقع ایک اہم جوہری ری ایکٹر کو اس وقت غیر معمولی حالات کا سامنا کرنا پڑا جب سمندری جیلی فش کی بڑی تعداد نے پاور پلانٹ کے کولنگ سسٹم کے راستے کو مسدود کر دیا۔ یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ جیلی فش کی جانب سے جوہری تنصیبات پر یہ دوسری بڑی یلغار ہے جس نے انتظامیہ کو فوری طور پر ری ایکٹر بند کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، جیلی فش کا یہ 'غلبہ' جوہری پاور پلانٹس کے لیے ایک سنگین تکنیکی چیلنج بن چکا ہے کیونکہ یہ جاندار پانی کے ان پائپوں میں داخل ہو جاتے ہیں جو ری ایکٹر کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے سمندری پانی استعمال کرتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد مقامی حکام اور جوہری توانائی کے ماہرین تشویش میں مبتلا ہیں۔ پاور پلانٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جیلی فش کی کثیر تعداد پانی کے انٹیک فلٹرز میں پھنس جاتی ہے، جس سے پانی کا بہاؤ رک جاتا ہے۔ اگر ری ایکٹر کو بروقت بند نہ کیا جائے تو یہ کولنگ سسٹم کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے اور ری ایکٹر کی حفاظت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ فرانسیسی حکام اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا سمندری درجہ حرارت میں تبدیلی یا دیگر ماحولیاتی عوامل جیلی فش کی اس غیر معمولی تعداد کے لیے ذمہ دار ہیں۔ جیلی فش کا جوہری ری ایکٹرز پر حملہ صرف فرانس تک محدود نہیں ہے، بلکہ دنیا بھر میں ایسے واقعات کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسانی ٹیکنالوجی اور سمندری حیات کے درمیان تصادم کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین حیاتیات کا کہنا ہے کہ سمندروں میں آلودگی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے جیلی فش کی افزائش کو تیز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ انسانی انفراسٹرکچر کے لیے رکاوٹ بن رہی ہیں۔ اب توانائی کے اداروں کو ایسے جدید فلٹریشن نظام متعارف کروانے کی ضرورت ہے جو ان سمندری جانداروں کو ری ایکٹر کے نازک حصوں تک پہنچنے سے روک سکیں۔ آئندہ کے لیے حفاظتی انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔ جوہری پلانٹ انتظامیہ اب سمندری پانی کی نگرانی کے لیے جدید سینسرز اور بہتر جالیوں کا استعمال کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ جیلی فش کو ری ایکٹر کے کولنگ سسٹم سے دور رکھا جا سکے۔ یہ واقعہ ٹیکنالوجی اور فطرت کے درمیان کشمکش کی ایک نئی مثال ہے، جہاں انسانی ساختہ بجلی کے مراکز کو سمندری حیات کے غیر متوقع رویے کی وجہ سے رکاوٹوں کا سامنا ہے۔