LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور جدید تعلیمی نظام: یونیورسٹیوں کو کیا کرنا چاہیے؟

News Image
مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں یونیورسٹیوں کو طالب علموں میں علم کے ساتھ ساتھ درست فیصلہ سازی کی صلاحیت پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ٹیلرز یونیورسٹی کی جانب سے اس شعبے میں کی جانے والی تحقیق عالمی تعلیمی معیار میں بہتری کی ایک مثال ہے۔
مصنوعی ذہانت کے عروج نے دنیا بھر کے تعلیمی نظام کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا ہے، جہاں معلومات تک رسائی اب صرف کتابوں یا لیکچرز تک محدود نہیں رہی۔ پروفیسر ون اور ان کی ٹیم کی جانب سے ٹیلرز یونیورسٹی میں کی جانے والی کوششیں اس بات کی عکاس ہیں کہ اب یونیورسٹیوں کو صرف نصابی علم فراہم کرنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ اس جدید دور میں سب سے اہم چیلنج یہ ہے کہ طلبہ میں علم کو جمع کرنے کے ساتھ ساتھ اسے بروئے کار لانے اور اس پر درست فیصلے کرنے کی صلاحیت کیسے پیدا کی جائے۔ یونیورسٹیوں کا اب بنیادی کام یہ ہے کہ وہ طالب علموں کو ایسے تنقیدی سوچ کے سانچے میں ڈھالیں جہاں وہ اے آئی کے ٹولز کو اپنی کامیابی کے لیے استعمال کر سکیں نہ کہ ان پر مکمل انحصار کریں۔ حال ہی میں ٹیلرز یونیورسٹی نے کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ میں 272واں مقام حاصل کیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ادارے جدید تقاضوں کو سمجھ رہے ہیں۔ عالمی سطح پر رینکنگ میں بہتری کسی بھی یونیورسٹی کے لیے ایک بڑا سنگ میل ہوتی ہے، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوتی ہے جب ادارے ٹیکنالوجی اور انسانی ذہانت کے مابین ایک توازن قائم کرتے ہیں۔ آج کے دور میں کسی بھی گریجویٹ کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ وہ پیچیدہ مسائل کا حل تلاش کرنے میں کتنی مہارت رکھتا ہے، اور یہی وہ خلا ہے جسے یونیورسٹیاں اپنے جدید نصاب اور تحقیق کے ذریعے پر کر سکتی ہیں۔ مستقبل کی یونیورسٹیوں کو تحقیق اور جدت طرازی کے ایسے مراکز بننا ہوگا جہاں طلبا مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال کے بارے میں بھی سیکھ سکیں۔ ٹیلرز یونیورسٹی جیسی مثالیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اگر تعلیمی ادارے وقت کے ساتھ خود کو تبدیل کریں، تو وہ اپنے طلبہ کو ایک ایسی بنیاد فراہم کر سکتے ہیں جو انہیں گلوبل مارکیٹ میں مسابقتی برتری دے گی۔ پروفیسر ون کی ٹیم کی حکمت عملی یہ بتاتی ہے کہ تکنیکی مہارتوں کے ساتھ ساتھ جذباتی اور اخلاقی ذہانت کا ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ آخر میں، تعلیمی اداروں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ اے آئی ان کے نظام تعلیم کا ایک جزو تو بنے، لیکن یہ انسانی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کا متبادل ہرگز نہ بن سکے۔