LIVE
Loading Breaking News...

نائجیریا کے لیے 20 ارب ڈالر کا مالیاتی موقع، بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس میں حصہ داری کی تجویز

News Image
مالیاتی ماہرین نے سینٹرل بینک آف نائجیریا پر زور دیا ہے کہ وہ بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس میں ممکنہ حصص کے ذریعے 20 ارب ڈالر کے فنڈز حاصل کرنے کے مواقع تلاش کرے۔ یہ اقدام ملک کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کو بہتر بنانے اور معاشی استحکام میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
حال ہی میں مالیاتی ماہرین کی جانب سے سینٹرل بینک آف نائجیریا (CBN) پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (BIS) میں اپنی ممکنہ حصص کی موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر نائجیریا اس عالمی مالیاتی ادارے میں اپنے حصہ داری کے حقوق کو صحیح معنوں میں استعمال کرے تو اسے 20 ارب ڈالر تک کے ممکنہ فنڈز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے، جو ملک کی موجودہ معاشی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔ بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس جسے اکثر مرکزی بینکوں کا مرکزی بینک کہا جاتا ہے، عالمی مالیاتی نظام میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ نائجیریا، جو کہ افریقہ کی ایک بڑی معیشت ہے، کے پاس اس ادارے کے ساتھ جڑ کر اپنی غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی سطح پر مالیاتی تعاون حاصل کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، سینٹرل بینک آف نائجیریا کو اب اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تاکہ طویل مدتی معاشی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ اس پیشکش کے تحت، اگر نائجیریا اپنی شیئر ہولڈنگ کی صلاحیت کو بروئے کار لاتا ہے تو اس سے نہ صرف ملک کے مالیاتی نیٹ ورک میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی سطح پر نائجیریا کی ساکھ بھی مستحکم ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے ملک میں زرمبادلہ کے بحران پر قابو پانے اور معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ سینٹرل بینک کی انتظامیہ کو اس تجویز پر تکنیکی اور قانونی جائزے کے بعد جلد از جلد عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ آخر میں، یہ بات قابل غور ہے کہ نائجیریا جیسے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے عالمی مالیاتی اداروں میں اپنا حصہ بڑھانا ناگزیر ہے۔ 20 ارب ڈالر کی یہ ممکنہ رقم نائجیریا کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوسکتی ہے، جس سے انفراسٹرکچر، تجارتی خسارے کو کم کرنے اور ملکی کرنسی کی قدر کو مستحکم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ عوام اور کاروباری حلقے اب سینٹرل بینک آف نائجیریا کی جانب سے اس تجاویز پر آنے والے ردعمل کے منتظر ہیں۔