LIVE
Loading Breaking News...

ہرن کب متحرک ہوتے ہیں؟ وائٹ ٹیل ہرن کی نقل و حرکت کا تجزیہ

News Image
ہرنوں کی نقل و حرکت کے پیٹرن کافی پیچیدہ ہوتے ہیں، تاہم شام کے وقت ان کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق سہ پہر چار بجے ہرنوں کا متحرک ہونا ممکن ہے، لیکن یہ ان کے عروج کا وقت نہیں ہوتا۔
جنگلی حیات کے ماہرین اکثر اس سوال کا سامنا کرتے ہیں کہ کیا ہرن دن کے خاص اوقات میں، خاص طور پر سہ پہر چار بجے، نقل و حرکت کرتے ہیں۔ وائٹ ٹیل ہرن (Whitetail Deer) کے رویے کا مطالعہ کرنے والے محققین کا کہنا ہے کہ ہرنوں کے معمولات انتہائی پیچیدہ اور حالات کے مطابق تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ اگرچہ چار بجے کا وقت ہرنوں کی سرگرمیوں کا عروج نہیں ہوتا، لیکن اس بات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اس وقت متحرک نہیں ہوتے۔ ہرن اپنی خوراک کی تلاش اور تحفظ کے پیش نظر دن بھر میں مختلف اوقات میں نقل و حرکت کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ہرنوں کی نقل و حرکت کا انحصار بنیادی طور پر 'کریپسکیولر' (Crepuscular) رویے پر ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ جانور طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے قریب سب سے زیادہ متحرک ہوتے ہیں۔ شام کا وقت ان کے لیے خوراک تلاش کرنے اور محفوظ مقامات کی طرف منتقلی کا بہترین وقت تصور کیا جاتا ہے۔ سہ پہر چار بجے، خاص طور پر موسم سرما میں جب سورج جلد غروب ہوتا ہے، ہرن اپنی پناہ گاہوں سے باہر نکلنا شروع کر دیتے ہیں تاکہ وہ خوراک کے لیے میدانوں یا جنگلات کے کناروں تک پہنچ سکیں۔ اس کے علاوہ، موسم، درجہ حرارت، اور انسانوں کی موجودگی جیسے عوامل بھی ہرنوں کی نقل و حرکت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اگر کسی علاقے میں انسانوں کی مداخلت کم ہو تو ہرن دن کے وقت بھی زیادہ پرسکون انداز میں نقل و حرکت کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب، شدید گرمی کے دنوں میں ہرن سہ پہر کے وقت نسبتاً سست رہتے ہیں اور سایہ دار مقامات پر آرام کرنا پسند کرتے ہیں تاکہ اپنی توانائی محفوظ رکھ سکیں۔ خلاصہ یہ کہ ہرنوں کی سرگرمیاں صرف ایک مقررہ وقت تک محدود نہیں ہوتیں۔ اگرچہ شام کا وقت ان کی عمومی نقل و حرکت کے لیے اہم ہے، لیکن سہ پہر چار بجے بھی انہیں دیکھا جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ فطرت اور جنگلی حیات کے مشاہدے کے شوقین افراد کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہرنوں کا رویہ مقامی ماحول اور موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ ان کے نقل و حرکت کے پیٹرن کو سمجھنے کے لیے صبر اور ماحول پر گہری نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔