LIVE
Loading Breaking News...

ہانگ کانگ کا مصنوعی ذہانت کا منصوبہ اور انشورنس سیکٹر کا کردار

News Image
ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی نے مصنوعی ذہانت کو خطے کو عالمی ٹیکنالوجی مرکز بنانے کے لیے کلیدی حیثیت قرار دیا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت انشورنس انڈسٹری کی ترقی کے ذریعے شہر میں ڈیجیٹل جدت کو فروغ دیا جائے گا۔
ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی نے حال ہی میں ایس سی ایم پی چائنا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ہانگ کانگ مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں ایک عالمی مرکز بن کر ابھرے گا۔ جان لی کے مطابق، شہر کی پہلی پانچ سالہ ترقیاتی حکمت عملی کے تحت تکنیکی جدت کو معیشت کا بنیادی ستون بنایا جا رہا ہے، جس میں انشورنس سیکٹر کا کردار غیر معمولی ہوگا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ انشورنس کے شعبے میں اے آئی کا استعمال نہ صرف خدمات کی فراہمی کو بہتر بنائے گا بلکہ سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔ حکومتی منصوبہ بندی کے مطابق، انشورنس کمپنیاں اپنی مصنوعات میں مصنوعی ذہانت کو شامل کر کے کسٹمرز کے ڈیٹا کا بہتر تجزیہ کر سکیں گی اور رسک مینجمنٹ کو زیادہ درست بنا سکیں گی۔ جان لی کا کہنا تھا کہ ہانگ کانگ کی جغرافیائی حیثیت اور مالیاتی مضبوطی اسے عالمی انوویشن اینڈ ٹیکنالوجی سینٹر بننے کے لیے ایک بہترین مقام بناتی ہے۔ اس پانچ سالہ پلان کا مقصد سٹارٹ اپس کو فروغ دینا اور انشورنس ٹیکنالوجی یعنی 'انشور ٹیک' (InsurTech) کے شعبے میں سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں ہانگ کانگ میں نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ بین الاقوامی سطح پر ٹیکنالوجی کی دوڑ میں شہر کی پوزیشن بھی مستحکم ہوگی۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو صرف مالیاتی شعبے تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ اسے تعلیم، صحت اور عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ اس بڑے ویژن کے حصول کے لیے ہانگ کانگ حکومت نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ تکنیکی بنیادی ڈھانچے کو عالمی معیارات کے مطابق جدید بنایا جا سکے اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھایا جا سکے۔