LIVE
Loading Breaking News...

امریکا کا ڈرونز اور ایوی ایشن پارٹس پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ

News Image
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر ملکی ڈرونز اور ہوائی جہازوں کے پرزہ جات پر 100 فیصد کسٹم ڈیوٹی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد امریکی مارکیٹ میں غیر ملکی مصنوعات کی درآمد کو کنٹرول کرنا اور ملکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تجارتی پالیسیوں کو مزید سخت کرتے ہوئے ڈرونز اور ہوائی جہازوں کے تمام پرزہ جات پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی مارکیٹ کو غیر ملکی، بالخصوص بعض مخصوص ممالک کی ٹیکنالوجی پر انحصار سے نجات دلانا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق اب کسی بھی غیر ملکی ڈرون یا ایوی ایشن کے پرزے کو بغیر بھاری ٹیکس ادا کیے امریکی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک بڑی تبدیلی لائے گا بلکہ اس سے عالمی سپلائی چین بھی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی راؤٹرز، روبوٹس اور دیگر الیکٹرانک آلات پر پابندیاں لگا چکے ہیں، جس کے تحت کمپنیوں کو سختی سے امریکی ضوابط کی پاسداری کرنا پڑتی ہے۔ اب ڈرونز اور ہوائی جہازوں کے پرزہ جات کو شامل کر کے حکومت نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ امریکی صنعتوں کو غیر ملکی مسابقت سے بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ دوسری جانب، ایوی ایشن انڈسٹری سے وابستہ حلقوں میں اس فیصلے پر تشویش پائی جاتی ہے۔ تجارتی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ 100 فیصد ٹیرف سے ہوائی جہازوں کی مرمت اور دیکھ بھال کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر پڑے گا۔ تاہم، ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ فیصلے طویل مدتی قومی مفاد میں ہیں اور اس سے امریکی مینوفیکچرنگ سیکٹر کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد ملے گی۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ دنیا کے دیگر ممالک اس امریکی فیصلے پر کیا ردعمل دیتے ہیں اور آیا یہ تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے یا نہیں۔