World
عمان کا ایران کے لیے آبنائے ہرمز سے متعلق نیا امن و فیس پلان
عمان نے ایران کے سامنے خلیجی ممالک کی حمایت یافتہ ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز کے استعمال کے لیے رضاکارانہ فیس مقرر کرنے کا پلان شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور امن مذاکرات کو فروغ دینا ہے۔
مسقط: سلطنت عمان نے تہران کو ایک اہم اور جامع تجویز پیش کی ہے جس کی حمایت خطے کے دیگر خلیجی ممالک بھی کر رہے ہیں۔ اس تجویز کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی بحری راستے کے استعمال کے لیے ایک رضاکارانہ فیس کا نظام وضع کرنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، یہ مسودہ ملکہ آبنائے (Malacca Strait) کے ماڈل پر تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد اس اہم ترین بحری گزرگاہ پر سیکیورٹی اور باہمی تعاون کو بہتر بنانا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر ایران اور خطے کے ممالک کے درمیان سفارتی کوششیں تیز ہو چکی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تجاویز سے نہ صرف جہاز رانی کے امور میں بہتری آئے گی بلکہ تہران اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بھی بحال ہو سکے گی۔ سعودی عرب اور عمان اس پورے عمل میں اہم سفارتی کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ان مذاکرات کو سراہا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی حالیہ مذاکرات کو مثبت قرار دیا گیا ہے، جس سے اس بات کی توقع کی جارہی ہے کہ یہ تجاویز خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ ایران اور عمان کے درمیان اس حوالے سے ہونے والی بات چیت کو امن مذاکرات کی بحالی کی طرف ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس مسودے کے تحت مزید تفصیلی مشاورت کی جائے گی، جس سے عالمی تجارت بالخصوص تیل کی ترسیل کے اس اہم ترین روٹ پر پیدا ہونے والے تناؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔