LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا زلزلہ 7.7 شدت: تازہ ترین اپڈیٹس اور نقصانات

News Image
انڈونیشیا کے جزیرے فلورس کے قریب 7.7 شدت کے زلزلے نے تباہی مچا دی جس کے نتیجے میں کم از کم دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ حکام نے ساحلی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو فوری طور پر اونچے مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
انڈونیشیا میں زمین لرز اٹھی، جزیرہ فلورس کے ساحلی علاقوں میں 7.7 شدت کے طاقتور زلزلے نے شدید تباہی مچا دی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ عمارتیں لرز اٹھیں اور خوف و ہراس کے عالم میں لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ حکام نے اس قدرتی آفت کے نتیجے میں اب تک دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد اور مالی نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ رہی ہیں۔ زلزلے کا مرکز سمندر کی تہہ میں تھا جس کے بعد مقامی انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ زلزلے کے فوراً بعد مقامی حکام نے ساحلی علاقوں میں بسنے والے شہریوں کے لیے انتہائی اہم ہدایات جاری کر دی ہیں۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سمندری کناروں سے دور رہیں اور فوری طور پر بلند مقامات کی جانب نقل مکانی کریں۔ زلزلے کی شدت کو دیکھتے ہوئے سونامی کے خطرے کو مسترد نہیں کیا جا سکتا، جس کے پیش نظر ساحلی پٹی پر موجود رہائشیوں کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پولیس اور ریسکیو اداروں کی جانب سے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ انڈونیشیا جغرافیائی لحاظ سے 'رنگ آف فائر' پر واقع ہونے کی وجہ سے دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں زلزلے اور آتش فشاں کے خطرات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ اس سے قبل بھی ملک کے مختلف جزیروں میں شدید نوعیت کے زلزلے تباہی پھیلا چکے ہیں۔ ماہرین ارضیات کے مطابق اس تازہ ترین زلزلے کے آفٹر شاکس کا سلسلہ بھی جاری رہ سکتا ہے، اس لیے شہریوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ حکومت نے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ فی الحال ریسکیو آپریشن جاری ہے اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ عالمی برادری اور بین الاقوامی تنظیموں نے بھی انڈونیشیا کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی نظام میں خلل کے باعث نقصانات کی حتمی تفصیلات سامنے آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ حکام نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری اعلامیوں پر انحصار کریں تاکہ کسی بھی قسم کی افراتفری سے بچا جا سکے۔