LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل: 28 ویں آئینی ترمیم اور اہم تجاویز

News Image
وفاقی حکومت ملک میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کی تشکیل کے امکانات کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے جس کا مقصد اٹھارویں ترمیم کے بعد پیدا ہونے والے انتظامی مسائل کا حل نکالنا ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب کو تین، خیبر پختونخوا کو دو حصوں میں تقسیم کرنے سمیت کراچی اور گوادر کو وفاقی تحویل میں لینے کی تجاویز پر بھی بات چیت جاری ہے۔
اسلام آباد کے طاقت کے ایوانوں میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کے حوالے سے ایک انتہائی سنجیدہ بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ اعلیٰ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ مشاورتی عمل ممکنہ طور پر 28 ویں آئینی ترمیم کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت اس معاملے پر نہایت احتیاط سے آگے بڑھ رہی ہے کیونکہ سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج ہے، اور ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں فی الحال اس حوالے سے محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ حکومتی عہدیدار کا کہنا ہے کہ بحث کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ کیا نئے صوبے بنانا ہی واحد حل ہے یا پھر موجودہ مقامی حکومتوں کے نظام کو مزید مستحکم اور بااختیار بنا کر مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حالیہ پاکستان اکنامک سمٹ میں سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ملکی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ان قومی مسائل پر فوری توجہ دیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کے جو مسائل پیدا ہوئے ہیں، ان کا بہترین حل نئے صوبوں کا قیام ہی ہے۔ قانونی ماہرین کی تنظیموں کی جانب سے اس معاملے پر ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے صوبوں کی تشکیل کی حمایت کی ہے، جبکہ پاکستان بار کونسل نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ کوئی بھی آئینی تبدیلی پارلیمنٹ کے ذریعے اور قومی اتفاق رائے سے ہی ہونی چاہیے۔ ذرائع کے مطابق اگر نئے صوبوں کے قیام کا حتمی فیصلہ کر لیا جاتا ہے تو انتظامی خاکہ کیا ہوگا، اس پر بھی مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔ ایک تجویز کے تحت کراچی اور گوادر کو وفاقی انتظامی کنٹرول میں دینے پر بات ہو رہی ہے، جبکہ باقی سندھ کو ایک صوبے کے طور پر برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح پنجاب کو تین اور خیبر پختونخوا کو دو حصوں یعنی پشتون اور ہزارہ ریجنز میں تقسیم کرنے کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں۔ خیبر پختونخوا کے حوالے سے سابقہ فاٹا اور پاٹا کے انضمام کے بعد صورتحال قدرے پیچیدہ ہے، تاہم ماہرین اس پر بھی مشاورت کر رہے ہیں۔ متبادل کے طور پر حکومت مقامی حکومتوں کے نظام کو فعال کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔ حکومتی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اگر مقامی حکومتوں کو براہ راست وفاق سے فنڈز منتقل کیے جائیں تو نچلی سطح پر مسائل کا بہتر حل ممکن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف دور کے مقامی حکومتوں کے نظام کو اگر تسلسل ملتا تو آج ملک کے پاس تجربہ کار قیادت کی ایک بڑی ٹیم موجود ہوتی۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ طویل المدتی استحکام کے لیے انتظامی ڈھانچے میں ایسی اصلاحات کی جائیں جو ملکی معیشت اور گورننس کو بہتر بنا سکیں۔