LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں ٹرانسپورٹ ہڑتال، ٹرانسپورٹرز کے دو گروپ بن گئے

News Image
پاکستان ٹرانسپورٹ کونسل نے حکومت سے مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد ملک گیر پہیہ جام ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم کنٹینر ٹریلرز اور دیگر بڑی گاڑیوں کے مالکان نے مطالبات پورے نہ ہونے پر ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان میں ٹرانسپورٹرز کے مختلف گروپس میں پھوٹ پڑنے کے بعد ملک بھر میں جاری پہیہ جام ہڑتال کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ ایک جانب پاکستان ٹرانسپورٹ کونسل نے حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد اپنی ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب کنٹینر ٹریلرز اور بڑے ٹرکوں کے مالکان نے ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی وجہ سے کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم سے سامان کی ترسیل بدستور متاثر ہے۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی جس کی سربراہی وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کر رہے تھے، نے ٹرانسپورٹرز کے آٹھ اہم مطالبات تسلیم کرنے کا عندیہ دیا ہے جس کے بعد ٹرانسپورٹ کونسل نے گاڑیاں سڑکوں پر واپس لانے کا اعلان کیا۔ ادھر آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے اوگرا (OGRA) کی جانب سے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد خود کو ہڑتال سے الگ کر لیا ہے۔ آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ فریٹ چارجز میں اضافے کا نوٹیفکیشن آئندہ ہفتے متوقع ہے، جس کے بعد تیل کی سپلائی کا نظام معمول پر آ جائے گا۔ تاہم خوردنی تیل کے ٹینکرز کے مالکان نے اب بھی کام شروع کرنے سے انکار کر دیا ہے، ان کا مؤقف ہے کہ جب تک تمام جائز مطالبات کی منظوری کا باضابطہ تحریری معاہدہ نہیں ہوتا، وہ اپنی سرگرمیاں معطل رکھیں گے۔ اس صورتحال نے بندرگاہوں پر موجود سامان کی نقل و حمل کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ دوسری جانب آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری نے واضح کیا ہے کہ ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کرنے والا گروپ ٹرانسپورٹرز کا محض ایک چھوٹا حصہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت مذاکرات کے نام پر وقت ضائع کر رہی ہے اور بڑے کنٹینرز اور بھاری ٹرالرز اب بھی سڑکوں سے غائب ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت ٹول ٹیکسز میں کمی اور زیر حراست گاڑیوں کی رہائی سمیت دیگر طویل المدتی مطالبات پر عملی اقدامات نہیں کرتی، تب تک بڑے ٹرانسپورٹرز سڑکوں پر نہیں آئیں گے۔ حکومتی حکام اور ہڑتالی ٹرانسپورٹرز کے مابین ہفتے کے روز مزید مذاکرات شیڈول ہیں جن میں اس بحران کے حتمی حل کی توقع کی جا رہی ہے۔