Pakistan
پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں اضافہ: حکومت اور پی پی ڈی اے میں معاہدہ طے
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں 1.34 روپے فی لیٹر اضافے کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد نیا مارجن 9.98 روپے ہو گیا ہے۔ اس پیشرفت کے بعد پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اپنی ملک گیر ہڑتال منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں 15.5 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد پیٹرول پمپ مالکان نے ہفتے کے روز سے شروع ہونے والی ملک گیر ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ سمری کی منظوری دی گئی۔ اس فیصلے کے تحت پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر ڈیلرز کے مارجن میں 1.34 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد مارجن 8.64 روپے سے بڑھ کر 9.98 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ یہ نظر ثانی شدہ مارجن یکم ستمبر سے نافذ العمل ہوگا۔
پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے دی گئی 72 گھنٹے کی ڈیڈ لائن کے بعد حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر یہ فیصلہ کیا۔ ڈیلرز کا مطالبہ تھا کہ فکسڈ مارجن کے بجائے اسے ریٹیل قیمت کے ساتھ منسلک کیا جائے، تاہم حکومت نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا کیونکہ اس سے صارفین پر بوجھ کئی گنا بڑھ سکتا تھا۔ حکام کے مطابق اگر ڈیلرز کا 8 فیصد مارجن والا مطالبہ مان لیا جاتا تو پیٹرول پر مارجن تقریباً 26 روپے اور ڈیزل پر 30 روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتا۔ ای سی سی نے ڈیلرز کو ریلیف دینے کے لیے فکسڈ مارجن میں ہی اضافے کو ترجیح دی تاکہ عوام پر براہ راست مہنگائی کا بوجھ نہ پڑے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل پیٹرولیم ڈیلرز ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو اپنے مارجن سے الگ کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔ حکومت نے واضح کیا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) کا مارجن 7.87 روپے فی لیٹر پر برقرار رکھا گیا ہے، اور ان کے مارجن میں اضافے کا عمل ڈیجیٹلائزیشن کے اہداف کے ساتھ مشروط ہے۔ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اضافے کو فی الحال قبول کر رہے ہیں تاکہ عوام کو ایندھن کی فراہمی میں خلل نہ پڑے۔ حکومت کی جانب سے ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو جاری رکھنے کا فیصلہ برقرار ہے تاکہ پیٹرولیم سیکٹر میں شفافیت لائی جا سکے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین میں تعطل کے خطرات ٹل گئے ہیں، جو کہ ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ اگرچہ صارفین پہلے ہی ایندھن کی بلند قیمتوں کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن ڈیلرز کے مارجن میں اضافہ ایک طویل عرصے سے زیر التوا مطالبہ تھا جسے حکومت نے آخرکار مذاکرات کے ذریعے حل کر لیا ہے۔ اب تمام تر توجہ یکم ستمبر سے نئے مارجن کے اطلاق پر مرکوز ہے، جس کے بعد پیٹرول پمپس معمول کے مطابق اپنا کاروبار جاری رکھیں گے۔