Pakistan
پاکستان میں سیلاب کی تازہ ترین صورتحال: چناب اور راوی کے نالوں میں ہائی فلڈ کا الرٹ
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے 15 سے 21 اگست کے درمیان دریائے چناب اور راوی سے ملحقہ ندی نالوں میں اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بالائی کیچمنٹ والے علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کے پیش نظر ندی نالوں میں پانی کی سطح تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔
لاہور: پاکستان کے محکمہ موسمیات کے فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن (ایف ایف ڈی) نے خبردار کیا ہے کہ 15 سے 21 اگست کے درمیان دریائے چناب اور دریائے راوی سے منسلک ندی نالوں میں اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔ ایف ایف ڈی کے مطابق ان دریاؤں کے اہم گیجنگ اسٹیشنوں پر پانی کا بہاؤ فی الحال کم درجے کے سیلاب پر ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلیوں اور بالائی علاقوں میں متوقع بارشوں کے باعث برساتی ندی نالوں میں پانی کی سطح اچانک بڑھ سکتی ہے، جس سے صورتحال ہائی فلڈ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ محکمہ نے خبردار کیا ہے کہ دریائے کابل کی معاون ندیوں اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے پہاڑی ندی نالوں میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات کی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد، گلگت بلتستان، کشمیر، بالائی خیبر پختونخوا اور پنجاب کے کئی اضلاع میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر دریاؤں کے بالائی کیچمنٹ والے علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافے کا خدشہ ہے، جس سے دریاؤں کے پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ تربیلا، کالا باغ، چشمہ، گڈو اور بلوکی جیسے مقامات پر پانی کا بہاؤ فی الحال نچلے درجے کے سیلاب کی سطح پر برقرار رہنے کی توقع ہے۔
واپڈا کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تربیلا ڈیم اس وقت اپنی زیادہ سے زیادہ سطح پر پہنچ چکا ہے، جس کی اونچائی 1550 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ دوسری جانب منگلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش تاحال موجود ہے اور یہ اپنی کل صلاحیت کا 67 فیصد بھرا ہوا ہے، جس کی موجودہ سطح 1209.75 فٹ ہے۔ چشمہ بیراج پر بھی پانی کی سطح اپنی زیادہ سے زیادہ گنجائش کے قریب ہے جو کہ 648.50 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ متعلقہ حکام نے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت اقدامات کیے جا سکیں اور جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور محکمہ موسمیات کی ہدایات پر عمل کریں۔