Pakistan
بلوچستان میں گیس بحران: پائپ لائن دھماکے کے بعد مرمت کا کام تعطل کا شکار
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں تین روز گزرنے کے باوجود گیس پائپ لائن کی مرمت کا کام شروع نہ ہو سکا کیونکہ حکام کو سکیورٹی کلیئرنس کا انتظار ہے۔ گیس کی فراہمی بند ہونے سے کوئٹہ سمیت متعدد شہروں کے مکین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
بلوچستان میں گیس کی فراہمی کا نظام گزشتہ تین روز سے شدید تعطل کا شکار ہے جس کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت کئی اضلاع کے عوام سردی اور گھریلو ضروریات کے لیے گیس کی عدم دستیابی پر پریشان ہیں۔ یہ بحران بدھ کی رات کچھی ضلع کے علاقے بولان میں نامعلوم افراد کی جانب سے 18 انچ قطر کی مرکزی گیس پائپ لائن کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کے بعد پیدا ہوا۔ سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکہ بولان ندی کے علاقے گورکاٹ کے قریب کے ایم پی-246 والو اسمبلی پر ہوا، جو کوئٹہ-سبی روڈ سے تقریباً 700 سے 800 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
حکام کے مطابق، نامعلوم شرپسندوں نے پائپ لائن کے نیچے انتہائی طاقتور دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑایا گیا۔ دھماکے کے بعد پائپ لائن سے آگ کے شعلے اور دھواں اٹھتا رہا جس سے پائپ لائن کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں کولپور، مچھ، مستونگ، قلات، پشین، زیارت اور کوئٹہ کے متعدد علاقوں میں گیس کی فراہمی مکمل طور پر منقطع ہو گئی ہے۔ شہریوں کو پہلے ہی گیس کے کم پریشر کا سامنا تھا، تاہم اب مکمل بندش سے گھریلو صارفین کو کھانا پکانے اور دیگر ضروریات کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ایس ایس جی سی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مرمتی ٹیمیں مکمل طور پر تیار ہیں اور جیسے ہی انہیں متعلقہ سکیورٹی حکام کی جانب سے کلیئرنس ملے گی، وہ جائے وقوعہ پر پہنچ کر پائپ لائن کی بحالی کا کام شروع کر دیں گی۔ کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کلیئرنس میں تاخیر کے باعث مرمتی کام کا آغاز ممکن نہیں ہو سکا ہے، کیونکہ علاقے کی حساسیت کے پیش نظر ٹیموں کو سکیورٹی فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ حکومتی ذرائع نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سکیورٹی انتظامات مکمل ہوتے ہی بحالی کا کام ترجیحی بنیادوں پر شروع کیا جائے گا تاکہ عوام کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جا سکے۔