LIVE
Loading Breaking News...

سنکیانگ میں اردو بولنے والے لوگ اور اسلامی ثقافت کا مشاہدہ

News Image
چین کے خود مختار خطے سنکیانگ کے دارالحکومت ارمچی کے دورے کے دوران مقامی مسلمانوں کی زندگی اور اردو زبان سے ان کے گہرے لگاؤ کا مشاہدہ کیا گیا۔ اس دورے میں مقامی آبادی کے ثقافتی تنوع اور اسلام کے ساتھ ان کے گہرے رشتوں کی دلچسپ تفصیلات سامنے آئیں۔
چین کے خود مختار خطے سنکیانگ کے دارالحکومت ارمچی میں اترتے ہی ایک خوشگوار حیرت اس وقت ہوئی جب ٹور گائیڈ نے 'السلام و علیکم' کہہ کر استقبال کیا۔ اس گائیڈ کا نام رحیمان ما ہے، جسے مقامی لوگ 'سنی' کے نام سے پکارتے ہیں۔ ارمچی کی کل آبادی میں اویغور، حوئی، منگول اور قازق نسل کے مسلمانوں سمیت کئی مسلم گروپ شامل ہیں جو شہر کی کل آبادی کا تقریباً 12 فیصد ہیں۔ اس دورے کے دوران ایسے کئی افراد سے ملاقات ہوئی جو اسلامی نام رکھتے ہیں، جبکہ کچھ نے بتایا کہ وہ کسی خاص مذہب کی پیروی نہیں کرتے۔ شہر میں جگہ جگہ عمارتوں پر چینی زبان کے ساتھ اویغور رسم الخط میں تحریریں دکھائی دیتی ہیں، جو اس خطے کی الگ ثقافتی شناخت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ دورے کے دوران یاسمین جہاں نامی خاتون سے ملاقات ہوئی، جن کا اصل نام للی ہے، لیکن انہوں نے بیجنگ میں اپنے اردو استاد کی محبت میں یاسمین نام اپنایا۔ یاسمین نے بہترین اردو زبان بول کر پاکستانی وفد کو حیران کر دیا۔ اسی طرح ارمچی کے گرینڈ بازار میں عزیز نامی دکاندار نے جب 'اندر آ جاؤ بہن' کہہ کر پکارا تو معلوم ہوا کہ اس نے ماضی میں اسلام آباد میں قیام کے دوران اردو سیکھی تھی۔ عزیز آج بھی اپنی زندگی سے مطمئن ہے اور اپنے کاروبار میں مگن ہے۔ مقامی روایات کے مطابق خواتین 55 سال اور مرد 60 سال کی عمر میں ریٹائر ہوتے ہیں، جس کے بعد وہ اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں اور سرکاری پنشن سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ سنکیانگ میں مذہبی مقامات کا دورہ بھی اس سفر کا اہم حصہ رہا۔ 12 ویں ڈویژن کی 'وو یی ٹونگشیانگ ڈونگ' مسجد ایک پرسکون دیہی علاقے میں واقع ہے، جہاں کے امام چن یون نے زائرین کے لیے خاص اہتمام کیا تھا۔ امام نے بتایا کہ سنکیانگ میں تقریباً 25 ہزار مساجد موجود ہیں، جہاں مقامی مسلمان عبادات کرتے ہیں۔ یہاں کی مساجد میں روایتی خلوص اور مہمان نوازی کا جذبہ نمایاں نظر آتا ہے۔ خاص طور پر جمعہ کے اجتماعات کے بعد مقامی رضاکاروں کی طرف سے تیار کردہ کھانے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہاں کے مسلمانوں کے دلوں میں اپنے عقیدے اور مہمانوں کے لیے کتنی محبت ہے۔ سنی نے سفر کے دوران اپنے خاندان کے بارے میں بھی بتایا اور اپنی بیٹی جمیلہ کی تصویر دکھاتے ہوئے فخر محسوس کیا جو ایمریٹس ایئرلائن میں بطور فضائی میزبان کام کرتی ہے۔ اس کے علاوہ سنکیانگ میں مسلمانوں کو اپنے تہواروں کے موقع پر دیگر برادریوں کے مقابلے میں زیادہ چھٹیاں ملتی ہیں۔ زندگی کے معمولات، اردو زبان سے لگاؤ اور ترقی کی راہوں پر گامزن اس خطے کے لوگ اپنی ثقافتی اور مذہبی اقدار کو جدید دنیا کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ دورہ نہ صرف ثقافتی تبادلے کا ذریعہ بنا بلکہ چین اور پاکستان کے درمیان عوامی رابطوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔