World
صدر ٹرمپ کے نئے تجارتی اور دفاعی احکامات: ڈرونز پر ٹیرف اور بحریہ میں بڑی تبدیلیاں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈرونز کی درآمد پر نئے ٹیرف عائد کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی بحریہ کو بیرون ملک جہاز سازی کی اجازت دینے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد امریکی دفاعی صنعت کی بحالی اور بحری طاقت میں اضافہ کرنا ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز دو اہم صدارتی احکامات پر دستخط کیے ہیں، جن کا مقصد ملک کی دفاعی صنعت کو مضبوط بنانا اور بحری طاقت میں اضافہ کرنا ہے۔ ان احکامات میں سے پہلا حکم ڈرونز کی درآمد پر نئے ٹیرف عائد کرنے سے متعلق ہے، جس کا مقصد ملکی سطح پر ٹیکنالوجی کے فروغ اور غیر ملکی انحصار کو کم کرنا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے اور امریکہ اپنی مقامی پیداوار کو تحفظ فراہم کرنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے ایک اور اہم حکم نامے کے ذریعے امریکی بحریہ کو اجازت دی ہے کہ وہ بیرونِ ملک بھی جہاز سازی کا عمل جاری رکھ سکے۔ اس کے علاوہ، بحریہ کو یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ طیارہ بردار جہازوں پر پرانی اور ثابت شدہ ٹیکنالوجی کو بحال کیا جائے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی پیچیدگیوں کے باعث بعض پرانے سسٹمز کی افادیت اپنی جگہ برقرار ہے، اور ٹرمپ انتظامیہ اب عملی نتائج کو جدید تجربات پر ترجیح دینا چاہتی ہے۔ اس اقدام سے امریکی بحری بیڑے کی صلاحیتوں میں توازن لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس پالیسی تبدیلی کے بعد امریکی دفاعی و سیاسی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ حامیوں کا ماننا ہے کہ بیرون ملک جہاز سازی کی اجازت دینے سے امریکی بحریہ کو درپیش مرمت اور نئے جہازوں کی فراہمی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے ملکی سطح پر روزگار کے مواقع اور صنعتی خودمختاری پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر، صدر ٹرمپ کا یہ اقدام ان کی 'امریکہ فرسٹ' پالیسی کا تسلسل دکھائی دیتا ہے جس میں وہ تجارتی تحفظات اور دفاعی ضروریات کو ایک ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ ان احکامات کے نفاذ سے عالمی سپلائی چین اور امریکی دفاعی بجٹ پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ تبدیلیاں امریکی عسکری طاقت کو اکیسویں صدی کے چیلنجز کے لیے مزید مستعد بنائیں گی۔