World
امریکی بحریہ: ٹرمپ کی جدید ٹیکنالوجی ہٹا کر پرانے سٹیم کیٹاپلٹ لگانے کی ہدایت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحریہ کو ہدایت کی ہے کہ نئے طیارہ بردار بحری جہازوں سے جدید برقی مقناطیسی کیٹاپلٹ سسٹم ہٹا کر پرانے سٹیم سے چلنے والے سسٹم دوبارہ نصب کیے جائیں۔ اس فیصلے کا اطلاق فورڈ کلاس کے چوتھے جہاز یو ایس ایس ڈورس ملر سمیت آئندہ بننے والے جہازوں پر ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی بحریہ کے نئے طیارہ بردار جہازوں میں ایک بڑی تکنیکی تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بحریہ کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ جدید ترین برقی مقناطیسی ایئرکرافٹ لانچ سسٹم (EMALS) کو ہٹا دیا جائے اور اس کی جگہ پرانے اور آزمودہ سٹیم سے چلنے والے کیٹاپلٹ سسٹم کو دوبارہ نصب کیا جائے۔ یہ ہدایت خاص طور پر فورڈ کلاس کے چوتھے جہاز، یو ایس ایس ڈورس ملر، کے ڈیزائن اور تعمیراتی مرحلے کو متاثر کرے گی۔ امریکی صدر کا ماننا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی پیچیدگیاں بحری آپریشنز میں رکاوٹ کا باعث بن سکتی ہیں، جبکہ سٹیم سسٹم اپنی افادیت اور سادہ میکانزم کے باعث زیادہ قابل اعتماد ہیں۔
ماہرین کے مطابق ای ایم اے ایل ایس (EMALS) ٹیکنالوجی کا مقصد طیاروں کی لانچنگ کو زیادہ ہموار بنانا اور بحری جہازوں کے مینٹیننس کے اخراجات میں کمی لانا تھا، تاہم اس سسٹم کو ابتدائی طور پر کئی تکنیکی مسائل کا سامنا رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس واپسی کے اقدام کو روایتی دفاعی صلاحیتوں کو بحال کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سٹیم کیٹاپلٹ سسٹم دہائیوں سے امریکی بحریہ کا حصہ رہے ہیں اور انہیں لڑائی کے دوران انتہائی پائیدار ثابت کیا گیا ہے۔ اس تبدیلی سے جہاز سازی کے منصوبوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا جدیدیت کی طرف بڑھنا بہتر ہے یا آزمودہ پرانے نظاموں پر انحصار کرنا زیادہ محفوظ ہے۔
اس فیصلے کے اثرات امریکی بحریہ کے طویل مدتی دفاعی بجٹ اور جہاز سازی کی حکمت عملی پر مرتب ہوں گے۔ اگرچہ جدید برقی نظام زیادہ ڈیٹا اور آپریشنل فوائد فراہم کرتے تھے، لیکن ٹرمپ کے اس حکم کے بعد اب انجینئرز کو نئے جہازوں کے ڈیزائن میں سٹیم سسٹم کی تنصیب کے لیے دوبارہ منصوبہ بندی کرنی پڑے گی۔ یو ایس ایس ڈورس ملر اس تبدیلی کا اہم مرکز ہوگا، جس پر یہ دیکھا جائے گا کہ کس طرح جدید ترین ڈھانچے میں پرانی ٹیکنالوجی کو ضم کیا جاتا ہے۔ آنے والے دنوں میں پینٹاگون کی جانب سے اس تبدیلی کے ٹائم لائن اور اخراجات کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔