Business
بھارتی الیکٹرانک برآمدات میں گراوٹ، پی سی بی کی قلت اور تجارتی رکاوٹیں
بھارت میں الیکٹرانک آلات کی مجموعی برآمدات میں اضافے کے باوجود پرنٹڈ سرکٹ بورڈز (پی سی بی) کی قلت اور امریکی ٹیرف کے باعث پرزہ جات کی برآمدات میں کمی دیکھی گئی۔ عالمی منڈی میں سپلائی چین میں رکاوٹیں مینوفیکچرنگ کے عمل کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔
بھارت میں الیکٹرانک صنعت کے شعبے کو حال ہی میں شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں مجموعی طور پر الیکٹرانک مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کے باوجود الیکٹرانک پرزہ جات کی برآمدات میں جون کی سہ ماہی کے دوران واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس گراوٹ کی بنیادی وجہ پرنٹڈ سرکٹ بورڈز (پی سی بی) کی عالمی سطح پر شدید قلت اور امریکہ کی جانب سے لاگو کیے گئے نئے تجارتی ٹیرف ہیں۔ یہ صورتحال ان مینوفیکچررز کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جو اپنی مصنوعات کو بین الاقوامی منڈیوں میں بھیجنے کے لیے ان پرزہ جات پر انحصار کرتے ہیں۔
صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی جو کہ کسی بھی الیکٹرانک ڈیوائس کا مرکزی حصہ ہوتے ہیں، ان کی دستیابی میں مسلسل کمی نے پیداواری عمل کی رفتار کو سست کر دیا ہے۔ سپلائی چین میں موجود ان رکاوٹوں نے نہ صرف لاگت میں اضافہ کیا ہے بلکہ برآمد کنندگان کی ڈیلیوری کے اوقات کو بھی متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کی طرف سے درآمدی اشیاء پر لگائے گئے نئے محصولات نے بھارتی مینوفیکچررز کے منافع کے مارجن کو محدود کر دیا ہے، جس کی وجہ سے مسابقتی عالمی منڈی میں ان کی مصنوعات اب پہلے جیسی پرکشش نہیں رہیں۔
ماہرین معاشیات کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگرچہ الیکٹرانک آلات کی مجموعی برآمدات میں تیزی برقرار ہے، لیکن پرزہ جات کی سطح پر یہ بحران طویل مدتی بنیادوں پر صنعت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اگر مینوفیکچررز متبادل ذرائع تلاش کرنے یا مقامی سطح پر پیداوار بڑھانے میں کامیاب نہیں ہوتے، تو آئندہ سہ ماہیوں میں بھی برآمدات کے اعداد و شمار مزید نیچے جا سکتے ہیں۔ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان اس حوالے سے رابطے جاری ہیں تاکہ ان تجارتی رکاوٹوں اور سپلائی چین کے مسائل کا کوئی پائیدار حل نکالا جا سکے۔
آنے والے مہینوں میں صنعت کی بقا کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آیا عالمی منڈی میں پی سی بی کی سپلائی معمول پر آتی ہے یا نہیں۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے یہ ایک نازک موڑ ہے جہاں انہیں ایک طرف عالمی ڈیمانڈ کو پورا کرنا ہے اور دوسری طرف ان بیرونی عوامل سے نبرد آزما ہونا ہے جو ان کی برآمدی صلاحیت کو کم کر رہے ہیں۔ تجارتی ماہرین کا مشورہ ہے کہ مینوفیکچررز کو اب اپنی سپلائی چین کو متنوع بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی ایک مارکیٹ یا ایک قسم کے پرزے کی قلت سے پورے کاروبار پر منفی اثر نہ پڑے۔