LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز پر امریکی قبضے کی تیاری، ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا اعلان

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ ایران کو شکست دینے کے بعد آبنائے ہرمز کو امریکی حدود میں شامل کر لیں گے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم راستے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا اور ایران پر دباؤ بڑھانا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایک انتہائی اہم اور چونکا دینے والا بیان دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو مکمل شکست دینے کے بعد وہ جلد ہی اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کا علاقہ قرار دے دیں گے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے وہاں ناکہ بندی کر رکھی ہے اور جب تک ہماری مرضی نہیں ہوگی، کوئی بھی جہاز وہاں سے نہیں گزر سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا دنیا کے لیے ایک بڑی خدمت ہے، جس کے لیے اگر امریکی شہریوں کو پیٹرول کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی برداشت کرنا پڑے تو یہ ایک جائز قیمت ہے۔ دوسری جانب، خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے کیونکہ متحدہ عرب امارات نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ان کے دو تجارتی جہازوں پر حملہ کیا ہے۔ اس واقعے کے بعد آبنائے ہرمز میں سمندری ٹریفک تقریباً رک گئی ہے اور عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ برطانوی میری ٹائم ایجنسی نے بھی تصدیق کی ہے کہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں آئل ٹینکرز کو نقصان پہنچا ہے۔ ان واقعات کے بعد امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹ نے کہا کہ ان کی بحریہ اپنی موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل جہازوں کی گردش جاری رکھے گی۔ ادھر وائٹ ہاؤس کے حکام نے بھی اپنی ترجیحات واضح کر دی ہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے اعتراف کیا کہ امریکی شہریوں کے لیے پیٹرول اور گیس کی قیمتوں کو کم رکھنا ان کی اولین ترجیح ہے، جبکہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دور رکھنا دوسرے نمبر پر ہے۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف تاریخ کی سخت ترین اقتصادی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ عالمی توانائی مارکیٹ کو متاثر کر کے مذاکرات میں اپنا پلڑا بھاری رکھ سکے۔ تاہم، امریکی انتظامیہ پر داخلی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے کیونکہ جنگ کے باعث پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور بڑھتے ہوئے اخراجات ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کو متاثر کر رہے ہیں۔